کراچی سندھ کے سینئر صحافی ادیب دانشور مانک کنگرانی حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جا ملے۔
انہیں 21 مارچ کی صبح20 ویں روزے کی سحری کے وقت ہارٹ اٹیک ہوا۔ جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے۔مانک کنگرانی نے سندھی اور اردو کے تمام مشہور اخباروں میں میں بطور صحافی ، سب ایڈیٹر اور ایڈیٹر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دی۔ اس کے علاقہ کہانی لکھنے کے فن میں بھی مہارت رکھتےہیں وہ پاکستان ٹیلی ویژن سمیت مختلف پرائیوٹ چینلز کے لیے ڈرامے لکھتےرہے۔ مانک کنگرانی اپنے نام کی طرح ایک شریف آدمی تھے۔ بہت ملنسار، ہمدرد، مہربان، دل کا فیاض اور عظیم محب وطن تھےسندھ حکومت ، نجی اور سرکاری اداروں نے ان کی صلاحیتوں اور فن کی قدر نہیں کی جس کے وہ حقدار تھے۔سندھ میں غربت کے ساتھ عزت نفس کو برقرار رکھنے والا شخص مانک کنگرانی کی طرح انتہائی مشکل اور بے چین زندگی گزارتا ہے۔