عمر کوٹ میں دلچسپ ضمنی انتخاب

اسحاق سومرو اسحاق سومرو

عمر کوٹ میں دلچسپ ضمنی انتخاب

عمر کوٹ میں دلچسپ ضمنی انتخاب


نواب یوسف تالپور کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست این اے 213 عمرکوٹ پر آج جمعرات 17 اپریل کو ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔ نواب یوسف تالپور مرحوم کی بیوہ صبا تالپور جو ایک کشمیری گھرانے سے تعلق رکھنے والی پڑھی لکھی خاتون ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ وہ رکن سندھ اسمبلی نواب تیمور تالپور کی والدہ ھے۔

. نواب یوسف تالپور نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر گزشتہ سات قومی اسمبلی کے انتخابات میں سے چھ میں کامیابی حاصل کی تھی، سوائے 1997 کے جب وہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار پیر نور محمد شاہ جیلانی سے ہار گئے تھے۔ عمرکوٹ کا یہ حلقہ 608,997 ووٹرز پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں عمرکوٹ شہر، سامارو، کنری اور شادی پلی کے علاقے شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کا یہ حلقہ ووٹرز کے لحاظ سے سب سے بڑا حلقہ ہے جہاں 398 پولنگ اسٹیشن ہیں۔ اس حلقے میں اقلیتی ووٹ خاص طور پر ہندوؤں کی شیڈول کاسٹ کے ووٹ زیادہ ہیں۔

جو گزشتہ تین انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں جاتے رھے ھین۔۔ دوسری جانب اس ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے روایتی مخالفین جن میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)، جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان)، جماعت اسلامی، سندھ یونائیٹڈ پارٹی (سید زین شاہ)، جیے سندھ محاذ (ریاض چانڈیو)، سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مظفر شاھ ، ڈاکٹر ارباب رحیم، مسلم لیگ نواز کے میر امان اللہ تالپور اور ڈیڑھ درجن کے قریب جماعتیں اور رہنما پیپلز پارٹی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کے پیر عمر جان سرہندی، جو مبینہ طور پر ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کے قتل میں ملوث ہیں، بھی الگ امیدوار ہیں۔ 2024 کے انتخابات میں مرحوم نواب یوسف تالپور نے 179,188 ووٹ لے کر قومی اسمبلی کی نشست جیتی۔ ان کے مقابلے میں میر امان اللہ تالپور (مسلم لیگ ن، جو جی ڈی اے کے مشترکہ امیدوار تھے) نے 44,961 ووٹ حاصل کیے تھے۔

. اس دوران پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار لال چند مالھی نے 37 ہزار 958 ووٹ حاصل کیے۔ لال چند مالھی پاکستان تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے لیے دو مرتبہ اقلیتی امیدوار منتخب ہونے والے لال چند مالھی خود مہران یونیورسٹی کے گریجویٹ اور صحافی ہیں۔

لال چند مالھی نوی کی دہائی میں انگریزی اخبار فرنٹیئر پوسٹ کے حیدرآباد کے رپورٹر تھے۔ ان دنوں میں بھی نواب شاہ میں فرنٹیئر پوسٹ کا ڈسٹرکٹ رپورٹر تھا۔ لال چند مالھی بعد میں انگریزی اخبار دی نیوز کے رپورٹر بن گئے۔ صحافت کے بعد سیاست میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اب وہ ایک سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

لال چند مالھی عمران خان کے دور حکومت میں قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے سرگرم رکن تھے۔ وہ اسمبلی کے فلور پر اور اس کے باہر مذہبی انتہا پسندی اور ہندو خواتین کی جبری تبدیلی جیسے مسائل پر سرگرم رہے ہیں۔ اس کے باوجود پیپلز پارٹی کے خلاف آئندہ ضمنی انتخابات میں لال چند مالھی کو بہترین امیدوار قرار دیا جا رہا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ضلع میں پچاس فیصد اقلیتی ووٹر ہیں۔ لیکن لال چند مالھی کا تعلق ہندوؤں کی "اوچی" برادری سے ہے، جب کہ ضلع میں اکثریت مینگھواڑ، کولہی اور بھیل برادریوں سے تعلق رکھتی ہے، جو پاکستان پیپلز پارٹی کے اکثریتی ووٹر سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر کھٹومل جیون، کرشنا کولہی، انجینئر گیان چند مینگھوار، اور پونجومل بھیل، جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی کے درج فہرست ذات سے ہے اور اس تھر کے علاقے کے اسمبلی ایوانوں میں نمائندگی کرتے ہیں۔ ویرجی کولہی بھی سرگرم رہے ہیں۔

اس لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی پوزیشن زیادہ مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری جانب لال چند مالھی غوثیہ جماعت، فنکشنل مسلم لیگ اور مالھی برادری کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے پر امید ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں ان کی مخالف جماعتوں نے انتخابی مہم زیادہ مؤثر طریقے سے چلائی ہے۔ گزشتہ روز عمرکوٹ میں لال چند مالھی 

کی حمایت میں نکالی گئی ریلی کامیاب رہی۔

مقامی صحافیوں کا کہنا تھا کہ اس حلقے کے ووٹرز کی تعداد اس جلسے میں کم تھی لیکن پڑوسی اضلاع سانگھڑ، مٹھی اور میرپورخاص کے پیر کے فالورز کی تعداد زیادہ تھی۔ آج سندھ میں نہرون کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی بڑھتی ہوئی تنقید کا نشانہ بن گئی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران حلقے کے مقامی مسائل سے زیادہ نہرون کے مسئلے پر زور دیا جا رہا ہے۔ عمر کوٹ کا جلسہ پیپلز پارٹی کی دریائے سندھ کو بچانے کی مہم میں زیادہ تھا۔

. دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) حلقے میں مرکزی جلسہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ایسے میں پیپلز پارٹی کے لیے الیکشن جیتنا ایک چیلنج ہے۔ 2013 کے بعد سے دیکھا جا رہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو عام اور ضمنی دونوں انتخابات میں انہی روایتی پیپلز پارٹی مخالف جماعتوں اور شخصیات نے چیلنج کیا ہے لیکن وہ تسلی بخش نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

جہاں تک ان پندرہ سالوں میں سندھ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا تعلق ہے تو صرف معظم علی عباسی ہی لاڑکانہ سے پیپلز پارٹی کے امیدوار سے جیتے ھین۔پورے ملک اور خصوصاً سندھ کے عوام کی نظریں آج کے انتخابی نتائج پر لگی ہوئی ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ لیکن ماضی کے نتائج اور ووٹرز کے رجحانات کو دیکھنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار صبا تالپور ضمنی انتخاب میں آسانی سے جیت جائیں گی۔