سندھ حکومت کی طرف سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے 2723 طلباء کی اسکالرشپ منظور

عمران عمران

سندھ حکومت کی طرف سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے 2723 طلباء کی اسکالرشپ منظور


کراچی  سندھ حکومت کی طرف سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے 2723 طلباء کی اسکالرشپ منظور، وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی زیر صدارت سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ ٹرسٹ کے بورڈ کے اجلاس میں یونیورسٹیز میں زیر تعلیم سندھ کے طلبہ و طالبات کے لیے سال 24-2023 کے اسکالرشپس کی منظوری دے دی گئی۔ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے بحیثیت چیئرمین سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ کراچی میں منگل کے روز منعقد ہونے والے اجلاس میں سیکریٹری کالج ایجوکیشن شہاب قمر انصاری، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، ایڈیشنل سیکریٹری جوڈیشل اینڈ سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ اقبال جمانی، SEEF بورڈ کے میمبران اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔


صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ  سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ غریب اور ہونہار طلباء کی اعلیٰ تعلیم میں مدد کے لیے قائم کیا گیا، SEEF اسکالرشپ کی مدد سے سندھ کے طلباء ملک بھر کی 90 سے زائد سرکاری و نجی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارا مقصد غریب اور ہونہار نوجوان کو اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے تا کہ مالی طور پر غیر مستحکم طلباء کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی جا سکے۔”


اجلاس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی سال 24-2023 کے لئے نئی 2723 اسکالرسپس کی منظوری دی گئی، جبکہ بورڈ اجلاس میں پہلے سے اسکالرشپ پر تعلیم جاری رکھنے والے 4877 طلبہ و طالبات کی اسکالرشپ کی تجدید کی بھی گئی، جس مجموعی طور پر اسکالرشپ کی تعداد 7600 ہوگئی ہے، اجلاس میں بتایا گیا کہ SEEF کا کل سرمایہ 9.2 بلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جس سے ہونے والی منافع سے اسکالرشپ کی فیس دی ادا کی جاتی ہے، جبکہ سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ میں گزشتہ 2 سالوں سے سرمایہ کاری کے لئے 2 بلین روپے کا اضافہ کیا گیا،


اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئیندہ اجلاس میں SEEF اسکالرشپ کو یونیورسٹی کی داخلہ کے ساتھ منسلک کرنے کے حوالے سے لائحہ عمل بنانے کے لیے تجاویز پیش کی جائیں، صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ یونیورسٹیز کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ طلباء کی داخلا کو  اسکالرشپ کی منظوری کے مرحلے تک آسانی پیدا کریں تا کہ وہ تعلیم جاری رکھ سکیں، “بہت سے طلباء مالی مسائل کے سبب یونیورسٹیز تک پہنچ نہیں پاتے، ہم اسکالرشپ کے حاصل


کرنے کے نظام میں مزید آسانی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔” صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ اسکالرشپ کے درخواست کے طریقہ کار کو مکمل طور پر پیپر لیس کیا جاۓ جبکہ کہ پورے مکینزم کا ڈیش بورڈ قائم کر کے طلباء کی درخواستوں کو ڈجیٹل بنیادوں پر آٹو اسکروٹنائیز سسٹم میں تبدیل کیا جاۓ تا کہ شفافیت کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے، اجلاس میں صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے یونیورسٹیز کے وائس چانسلز کے بطور بورڈ میمبرز کی عدم حاضری پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ وائس چانسلز کو حاضر رہ کر طلباء کی آسانیوں کے حوالے سے تجاویز پیش کرنے چاہئیں،


سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ ٹرسٹ 2003 میں قائم کیا گیا تھا جس کی مدد سے اب تک سندھ کے 37550 سے زائد طلبہ و طالبات اسکالرشپ لے کر اعلیٰ تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔