شہدادپور سے اغوا ہونے والی تین بہنیں اور ان کا کزن کراچی سے بازیاب، اسلام قبول کرنے کا دعویٰ

عرفان علی عرفان علی

شہدادپور سے اغوا ہونے والی تین بہنیں اور ان کا کزن کراچی سے بازیاب، اسلام قبول کرنے کا دعویٰ

کراچی/شہدادپور شہدادپور سے اغوا کی گئی تین بہنوں اور ان کے کزن لڑکے کو کراچی سے بازیاب کرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق 21 سالہ جیا بائی، 19 سالہ دیا بائی، 15 سالہ دشا بائی اور 13 سالہ ہنی کمار کو کراچی کے اورنگی ٹاؤن میں واقع ایک شیلٹر ہوم سے بازیاب کرایا گیا، جو نور جہاں تھانے کی حدود میں آتا ہے۔ انہیں رات گئے شہدادپور منتقل کیا گیا، اور آج انہیں مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت بیان کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شیلٹر ہوم ایک فلاحی ادارے کے زیر انتظام ہے۔

دوسری جانب، پولیس نے کمپیوٹر انسٹرکٹر فرحان خاصخیلی کو بھی گرفتار کر لیا ہے، جس کے واٹس ایپ نمبر سے تینوں بہنوں کے اسلام قبول کرنے کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ پولیس نے فرحان کو کراچی لے جا کر ان بچوں کو بازیاب کرایا۔ لڑکیوں کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ فرحان نے دشا بائی اور ہنی کمار کو شہدادپور سے، جیا بائی کو حیدرآباد سے، اور دیا بائی کو کراچی کی ڈاؤ یونیورسٹی سے اغوا کیا۔

اسلام قبول کرنے کا دعویٰ، ویڈیوز جاری مبینہ طور پر اغوا کی گئی تینوں بہنوں اور ان کے کزن ہنی کمار نے ویڈیو بیانات جاری کیے ہیں جن میں انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا۔ یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں اور پولیس و اہل خانہ کو بھی موصول ہوئی ہیں۔ تاہم، اہل خانہ نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ زبردستی دلوائے گئے ہیں۔

ہندو پنچایت کا مطالبہ شہدادپور ہندو پنچایت کے صدر ونود کمار نے پولیس کی کارروائی پر خوشی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ والدین کو اپنی بیٹیوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

فرحان کی مبینہ دھمکیاں ہنی کمار کی والدہ پاہی نے الزام لگایا کہ فرحان خاصخیلی ان کے بیٹے کو اسلام قبول کرنے پر اکساتا تھا اور دھمکی دیتا تھا کہ وہ اسے ان سے جدا کر دے گا