کراچی: موسمیاتی ردعمل پر مبنی حکمرانی کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ مکمل

رباب ابراہیم رباب ابراہیم

کراچی: موسمیاتی ردعمل پر مبنی حکمرانی کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ مکمل

کراچی: موسمیاتی ردعمل پر مبنی حکمرانی کے موضوع پر دو روزہ ورکشاپ مکمل 


کلائمیٹ ایکشن سینٹر (CAC) اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقی سندھ کے ریسرچ اینڈ ٹریننگ ونگ کے اشتراک سے کراچی میں موسمیاتی نظم و نسق پر مبنی دو روزہ تربیتی ورکشاپ کامیابی سے مکمل ہوگئی۔ ورکشاپ کا عنوان "موسمیاتی ردعمل پر مبنی حکمرانی: سرکاری شعبے کو بااختیار بنانا" تھا، جو 24 اور 25 جون کو این ای ڈی یونیورسٹی، سٹی کیمپس میں منعقد ہوئی۔ورکشاپ کا مقصد کراچی کلائمیٹ ایکشن پلان (KCAP) کے اہداف کے حصول کے لیے سرکاری افسران کی موسمیاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا تھا۔ اس دو روزہ پروگرام میں سرکاری اداروں، جامعات، سول سوسائٹی، اور مقامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں قانونی فریم ورک، ڈیجیٹل ڈیٹا، توانائی کی منتقلی، صفائی، حیاتیاتی تنوع، اور موسمیاتی مالیات جیسے اہم موضوعات پر سیشنز ہوئے۔

افتتاحی خطاب میں عبدالنبی میمن، ڈی جی ریسرچ اینڈ ٹریننگ ونگ، نے کہا کہ کراچی جیسے پیچیدہ شہری ماحول میں موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باشعور اور فعال سرکاری قیادت ناگزیر ہے۔


یاسر دریا، ڈائریکٹر کلائمیٹ ایکشن سینٹر، نے KCAP کے وژن اور اہداف سے شرکا کو آگاہ کیا۔ انہوں نے Air Quality Life Index اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی اہمیت پر زور دیا۔ ورکشاپ کے دوران ایڈووکیٹ زبیر ابڑوو نے پیرس معاہدے اور پاکستان کی NDCs سے متعلق قانونی پہلوؤں پر گفتگو کی،


جب کہ سندھ انڈیجنس رائٹس الائنس کے حفیظ بلوچ نے مقامی برادریوں کی شمولیت کو موسمیاتی انصاف کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ سندھ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ڈاکٹر اسحاق انصاری نے ڈیٹا سسٹم کے فقدان کو چیلنج قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اب بھی مربوط نظام کی شدید کمی ہے۔ توانائی اور ٹرانسپورٹ سیشن میں ماہرین نے مقامی سطح پر الیکٹرک وہیکل انڈسٹری، سبسڈی کے عدم توازن، اور غیر رسمی ٹرانسپورٹ کی شمولیت جیسے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ شرکا نے ای ٹربو کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیسٹ رائیڈ کا بھی تجربہ کیا۔


ورکشاپ کے دوسرے دن مالیاتی موضوعات اور قدرتی حل پر توجہ مرکوز رہی۔ ڈاکٹر امتیاز بھٹی نے گرین بانڈز، کاربن کریڈٹس اور گرین انفراسٹرکچر کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ذرائع کی اہمیت پر زور دیا۔ڈاکومنٹری "ریھڑی گوٹھ" ان دیکھی کہانیاں" میں پسماندہ آبادیوں پر ماحولیاتی مسائل کے اثرات کو اجاگر کیا گیا،



جب کہ سلمان بلوچ، جاوید خان اور دیگر مقررین نے شہری منصوبہ بندی میں حیاتیاتی تنوع اور قدرتی حل کی ضرورت پر گفتگو کی


۔ اختتامی سیشن میں کلائمٹ ایکشن سینٹر کی نمائندہ کنزہ نسیم اور وردہ ممتاز نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ادارہ جاتی تربیت اور شراکت داری کے تسلسل کا عزم ظاہر کیا۔