اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےمانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا۔ بنیادی شرح سود کو گیارہ فیصد پرمستحکم رکھا گیا ہے۔ گورنراسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہےکہ درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔برآمدات توقع کی نسبت کم ہوئی ہیں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےمانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا۔ سال 2025 کی پانچویں پالیس جاری کرتےہوئےگورنراسٹیٹ نےشرح سود 11 فیصد پربرقراررہنےکا اعلان کردیا۔
جمیل احمد، گورنراسٹیٹ بینک مانیٹری پالیسی نے جوڈیسائڈ کیا کہ ریٹ جو ہے وہ 11 پرسنٹ مینٹین کیا جائے اوراس کی بہت ساری وجوہات ہی)
پریس کانفرنس کرتےہوئےجمیل احمد کا کہنا تھا کہ سرکاری زرمبادلہ کےذخائرمیں اضافہ ہواہے،جوایک سال میں 5 ارب ڈالرسےزائد بڑھ چکےہیں۔آئندہ سال 5سے7فیصد مہنگائی کےشرح رہنےکی توقع ہے۔مالی سال میں قرضوں کی ادائیگیاں 26ارب ڈالرزسےزائد رہنے کا امکان ہے۔۔
جمیل احمد، گورنراسٹیٹ بینک سال 24کے اندر 53 ارب ڈالرز کے امپورٹ سے جو 2025 میں بڑھ کے تو تقریبا 59 ارب جو ہے 59.1 ارب ڈالرزوہ ہو گئے نان آئل امپورٹس وہ 16 پرسنٹ سے بڑے ہیں)
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ فچ نےپاکستان کی ریٹنگ بہترکی ہے،کرنٹ اکاؤنٹ طویل عرصہ بعد سرپلس رہا ہے۔۔