نفرت، سیاست یا کوتاہی؟ سندھ حکومت پر تنقید کا تہہ دار منظرنامہ

عدنان اطہر عدنان اطہر

  نفرت، سیاست یا کوتاہی؟ سندھ حکومت پر تنقید کا تہہ دار منظرنامہ



نفرت، سیاست یا کوتاہی؟ سندھ حکومت پر تنقید کا تہہ دار منظرنامہ


بارش کی چند بوندیں جب کراچی کی زمین پر گرتی ہیں، تو صرف سڑکیں نہیں بہتی، جذبات بھی بہہ جاتے ہیں۔ گٹر اُبلتے ہیں، عمارتیں لرزتی ہیں، اور سوشل میڈیا پر سندھ حکومت کے خلاف ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تنقید کیوں ہوتی ہے، سوال یہ ہے کہ تنقید میں نفرت کیوں گھل جاتی ہے؟ کیا یہ صرف انتظامی ناکامی ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہری سیاسی و سماجی دراڑ چھپی ہے؟


بارش اور بے بسی: ایک موسمی آزمائش یا حکومتی ناکامی؟


کراچی میں بارش ہو تو شہر تھم جاتا ہے۔ سڑکیں تالاب بن جاتی ہیں، بجلی غائب ہو جاتی ہے، اور شہری اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ منظرنامہ ہر سال دہرایا جاتا ہے، اور ہر سال سندھ حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی بارش لاہور یا اسلام آباد میں ہو، تو میڈیا خاموشی اختیار کرتا ہے۔ کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟ یا شاید کراچی کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی۔


 تنقید یا تعصب؟ اردو آبادی اور سندھ حکومت کا تعلق


یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ تنقید کا زیادہ تر اظہار اردو بولنے والی آبادی کی طرف سے ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف انتظامی ناکامیوں پر ردعمل ہے یا اس میں قومیتی جذبات بھی شامل ہیں؟ سندھ کی ثقافت، زبان، اور سیاسی شناخت کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ یہی لوگ سندھ کی زمین، وسائل، اور سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پھر ثقافت پر اختلاف کیوں؟ کیا یہ شناخت کا بحران ہے یا سیاسی بیانیے کا اثر؟

 سیاست کا سایہ: پیپلز پارٹی اور میڈیا ٹرائل


پیپلز پارٹی جو سندھ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، اکثر میڈیا ٹرائل کا شکار بنتی ہے۔ وزراء کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے، اور ہر مسئلے کی جڑ انہیں قرار دی جاتی ہے۔ اگر سندھ اتنا ناکام ہے تو پھر پورے ملک سے لوگ کراچی علاج، تعلیم، اور روزگار کے لیے کیوں آتے ہیں؟ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ سندھ وسائل سے مالا مال ہے، مگر اس کی نمائندگی کمزور ہے؟


کوتاہی کہاں ہے؟ اصلاح کی گنجائش یا صرف الزام تراشی؟


یہ ماننا پڑے گا کہ سندھ حکومت کی کارکردگی میں کمی بیشی ضرور ہے۔ صفائی، انفراسٹرکچر، اور شہری سہولیات میں بہتری کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا صرف تنقید سے اصلاح ممکن ہے؟ یا نفرت انگیز بیانیہ اصلاح کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے؟ جب تنقید ذاتیات، قومیت، اور ثقافت پر حملہ بن جائے، تو اصلاح کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔


 موازنہ اور منصفانہ تجزیہ: سندھ بمقابلہ دیگر صوبے


اگر سندھ کا موازنہ دیگر صوبوں سے کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر صوبے میں مسائل ہیں۔ پنجاب میں بھی سیلاب آتے ہیں، خیبر پختونخوا میں بھی دہشتگردی کا سامنا ہوتا ہے، بلوچستان میں بھی محرومیاں ہیں۔ مگر سندھ کو جس شدت سے نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ غیر متوازن ہے۔ کیا یہ صرف سیاسی مخالفت ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہری نفرت چھپی ہے؟


 نفرت نہیں، مکالمہ چاہیے


سندھ حکومت پر تنقید ضرور ہونی چاہیے، مگر تعمیری انداز میں۔ نفرت، تعصب، اور قومیتی حملے نہ صرف مسائل کو بڑھاتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہمیں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو اصلاح کی راہ ہموار کرے، نہ کہ نفرت کی دیواریں کھڑی کرے۔