جوگیندر ناتھ منڈل کا تعلق ہندو مت کی شودر ذات سے تھا، جسے سماجی ذات کے نظام کے تحت دلت یا (اچھوت) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ منڈل 29 جنوری 1904 کو باقر گنج شہر، باریسال، بنگال، کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔
منڈل نے برطانوی ہندوستان کے صوبہ بنگال کے وزیر قانون کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ جوگیندر ناتھ منڈل جنہیں قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا پہلا وزیر قانون اور محنت مقرر کیا۔
قیام پاکستان کے بعد اقتدار نوکر شاہی کے ہاتھ میں رہا جس نے غیر مسلموں کے سامنے جوابدہی کو قطعاً قبول نہیں کیا۔ اس عمل سے ہندو ذات میں عدم اعتماد پیدا ہوا، اور ریاستی امور میں ہندوؤں کا کردار محدود ہو گیا۔ ایک تاثر یہ بھی تھا کہ ہندوؤں کی پاکستان کے ساتھ وفاداری غیر تسلی بخش ہے۔ مارچ 1949 میں جوگیندر ناتھ منڈل کو قراردادِ مقاصد کی حمایت کرنی پڑی، جس سے قائداعظم کا پاکستان جسے ایک "روشن خیال اور سیکولر ریاست"، ایک مذہبی ریاست مین بدل گئے ۔ اس سے جوگیندر ناتھ پر دباؤ بڑھ گیا، جو اپنے آپ کو سیاسی طور پر الگ تھلگ محسوس کرنے لگے۔
قائداعظم کی وفات کے بعد بھی جوگندر ناتھ منڈل کو پاکستان سے وفاداری کے حوالے سے مشکوک الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ نتیجتاً انہیں نہ صرف وزارت بلکہ ملک بھی چھوڑنا پڑا۔1950 میں، جوگیندر ناتھ منڈل کلکتہ، مغربی بنگال، ہندوستان میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، جہاں انہوں نے اپنی باقی زندگی گزاری۔ ساتھ ہی انہیں ہندوستانیوں کے طعنے بھی سہنے پڑے۔
1947میں جب سلہٹ ضلع کے لوگوں کو فیصلہ کرنا تھا کہ وہ اپنے ضلع کو آسام کے ضلع میں ضم کریں یا اسے پاکستان کا حصہ بنائیں۔ اس وقت سلہٹ ضلع میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے ووٹوں کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں تھا، لیکن اچھوت برادری کا ایک بڑا ووٹ بینک تھا جو کسی بھی پارٹی کو فتح دلا سکتا تھا۔ قائداعظم کے حکم پر جوگندر ناتھ منڈل سلہٹ گئے اور اچھوتوں کے ووٹوں کے ذریعے پاکستان کے حق میں ریفرنڈم کرایا۔
جوگندر ناتھ منڈل پاکستان کے پہلے وزیر قانون تھے جنہیں پاکستان میں 'غدار' اور ہندوستان میں 'سیاسی طور پر اچھوت' سمجھا جاتا تھا۔ جوگندر ناتھ منڈل نے اس وقت کے وزیر اعظم کو اپنے 27 صفحات پر مشتمل استعفیٰ خط میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور مذہبی جنونیت کے عروج کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
تقسیم ہند سے پہلے بنگال میں سب سے بڑا مسئلہ جاگیردارانہ نظام کی زد میں آنے والے کسانوں کا تھا، جن میں بڑی تعداد مسلمان اور بعد میں دلت تھی۔ انھیں 'شودر' بھی کہا جاتا تھا لیکن انگریزوں کے دور میں انھیں 'شیڈیولڈ کاسٹ' کا نام دیا گیا ۔ جبکہ زیادہ تر زمیندار ہندو برہمن تھے۔
بعد میں جب ہندوستان میں قانون سازی کا عمل شروع ہوا تو نہرو نے ایک غیر کانگریسی دلت رہنما ڈاکٹر امبیڈکر کو اپنی کابینہ میں ہندوستان کے پہلے وزیر قانون کے طور پر نامزد کیا، جو ملک کے پہلے آئین کے مسودے کے موجد تھے۔ تاہم جوگیندر ناتھ منڈل تقسیم ہند کے حق میں نہیں تھے۔لیکن انہوں نے محسوس کیا کہ اونچی ذات کے ہندوؤں کے درمیان رہتے ہوئے شودروں کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے، اس لیے پاکستان کا قیام ان کے لیے ایک بہتر موقع ہو سکتا ہے۔
جس طرح ڈاکٹر امبیڈکر ہندوستان کے وزیر قانون بنے، اسی طرح جوگیندر ناتھ منڈل پاکستان کے وزیر قانون بنے۔ اور پھر چند سالوں کے بعد دونوں کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا۔
جوگیندر ناتھ منڈل نے 8 اکتوبر 1950 کو استعفیٰ دیا جب کہ امبیڈکر نے 27 ستمبر 1951 کو استعفیٰ دیا۔ دونوں میں فرق یہ تھا کہ منڈل نے ہندوؤں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر مایوسی میں استعفیٰ دیا، جب کہ امبیڈکر نے اس کے باوجود جنوری 1950 میں ہندوستان کے آئین کو مکمل کرکے اپنا تاریخی کردار ادا کیا۔ ہندو جانشینی ایکٹ کے تحت لڑکیوں کو جائیداد کے حقوق لڑکوں کے برابر ملنے تھے ، لیکن ناکامی پر استعفیٰ دے دیا۔
جوگندر ناتھ منڈل نے 27 صفحات کے اپنے طویل ٹائپ استعفیٰ میں اپنا موقف پیش کیا تھا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ منڈل اس ماحول میں بالکل الگ تھلگ تھا، اس کے لیے زندگی اس قدر مشکل ہو گئی کہ اسے پاکستان سے بھاگنا پڑا۔
پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی وفات کے بعد کئی ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے جوگیندر ناتھ منڈل کو مایوس کیا کہ اقلیتوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے والا اس ملک میں کوئی نہیں۔ حکام جارحانہ انداز میں مذہب کو ریاست پر مسلط کر رہے تھے۔ اس پس منظر میں قرارداد مقاصد منظور کی گئی جس کے حق میں میاں افتخار الدین کے علاوہ تمام مسلم اراکین اسمبلی نے ووٹ دیا۔
جبکہ ایک کے علاوہ تمام اقلیتی ارکان نے قرارداد کی مخالفت کی۔ ایک اقلیتی رکن نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر قائداعظمؒ زندہ ہوتے تو ایسی قرارداد کبھی منظور نہ ہوتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ قرارداد مقاصد کے حق میں ووٹ دینے والے واحد اقلیتی رہنما جوگیندر ناتھ منڈل خود تھے۔
پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ "قرارداد مقاصد" کی منظوری پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا لمحہ تھا جس نے پاکستان کو مسلمانوں کی اسلامی ریاست میں تبدیل کر دیا۔ خاص طور پر اس نے دلتوں کی آئینی حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
جوگیندر ناتھ منڈل 1950 تک وزیر اعظم لیاقت علی خان کی کابینہ کے رکن رہے۔ اس کے بعد انہوں نے اکتوبر میں استعفیٰ دے دیا، اپنے استعفیٰ میں کہا کہ بنگال میں فوج، پولیس اور مسلم لیگ کے کارکنوں کے ہاتھوں سینکڑوں دلتوں کے قتل کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ منڈل نے اپنے استعفی کے خط میں پولیس اور مقامی مسلمانوں کے ذریعہ دلتوں (شیڈولڈ کاسٹ) کے خلاف تشدد کے واقعات کا تفصیلی بیان بھی شامل کیا ہے۔
اس میں دلتوں کے خلاف جرائم، تقسیم کے دوران تشدد، دلتوں کے خلاف مظالم کے واقعات، زبردستی اسلام قبول کرنے، خواتین کی عصمت دری، لوٹ مار، جبری اغوا، گائے کا ذبیحہ، دلت مذہبی مقامات کی بے حرمتی وغیرہ کی فہرست شامل تھی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں نہ صرف اقلیتیں بلکہ مسلمانوں کی بھی بے عزتی ہو رہی ہے جو مسلم لیگ کے حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کی کرپٹ بیوروکریسی کے دائرے سے باہر ہیں۔
ان کے بیٹے جگدیش چندر منڈل نے پروفیسر انیربن بندیوپادھیائے کو بتایا کہ جب ان کے والد کراچی میں رہتے تھے، یہاں تک کہ بطور وزیر، انہیں ہر معاملے سے باہر رکھا جاتا تھا۔ انہوں نے پاکستان میں دلتوں کے بہتر مستقبل کی امید میں سب کچھ ہندوستان میں چھوڑ دیا تھا، جناح پر بھروسہ کیا تھا، لیکن جناح کے بعد اسی پاکستان میں سیاسی طور پر اچھوت سمجھا جاتا تھا۔
جب منڈل 1950 میں استعفیٰ دے کر ہندوستان کے بنگال چلے گئے تو انہیں اپنے لوگوں میں بھی شک کی نگاہ سے دیکھا گیا کیونکہ وہ پاکستان سے آیا تھا۔ وہ پہلے ہی سیاسی طور پر آؤٹ کاسٹ ہو چکے تھے۔ لیکن اب منڈل کو سہارا دینے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ منڈل ہی تھا جس نے تقسیم سے پہلے 1946 میں ڈاکٹر امبیڈکر کو اپنے زیر اثر حلقے سے انڈین لیجسلیٹو کونسل کے لیے منتخب کروایا تھا۔
انہوں نے اپنا زیادہ تر وقت کلکتہ کے ایک غریب مضافاتی علاقے میں 1950 سے 1968 تک گزارا۔ جوگندر ناتھ منڈل 5 اکتوبر 1968 کو کشتی میں دریا عبور کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کے جسم کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔
جوگیندر ناتھ منڈل کے بیٹے جگدیش کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی لاش کی حالت ایسی تھی کہ ایسا لگتا تھا کہ ان کی موت قدرتی موت نہیں ہوئی۔ پروفیسر سین نے اسے 'پراسرار موت' قرار دیتے ہوئے شبہ ظاہر کیا کہ اسے زہر دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اس کی موت پراسرار حالات میں ہوئی، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے قتل کیا گیا ہے۔