سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت، فل کورٹ کی تشکیل پر بحث شدت اختیار کر گئی
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران فل کورٹ کی تشکیل، بینچز کے اختیارات اور سپریم کورٹ رولز 2025 پر تفصیلی بحث ہوئی۔ سماعت کے دوران تکنیکی مسائل بھی سامنے آئے، جسٹس امین الدین نے بتایا کہ نیٹ ورک پرابلم کے باعث ویڈیو لنک نشر نہیں کی جا سکے گی، جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے لائیو اسٹریمنگ لنک ڈاؤن ہونے کی تصدیق کی۔
درخواست گزاروں کے وکیل عابد زبیری نے مؤقف اپنایا کہ مقدمہ سننے یا نہ سننے کا اختیار جج کے پاس ہے، تاہم ان کی درخواست فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق ہے۔ جسٹس امین الدین نے فل کورٹ کی بات نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف وہی ججز شامل ہوں جو ترمیم سے پہلے سپریم کورٹ میں موجود تھے۔
عدالت نے آئین کے آرٹیکل 191 اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی حصہ ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں 191 اے کو سائیڈ پر رکھ دیں، مگر ایسا کیسے ممکن ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ بینچز سپریم کورٹ رولز کے مطابق بنائے جائیں گے۔
وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ سپریم کورٹ رولز 2025 کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے، اور آرڈر 11 کے تحت کمیٹی بینچز تشکیل دے گی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے واضح کیا کہ ان رولز میں کہیں نہیں لکھا کہ بینچ چیف جسٹس بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فل کورٹ سے متعلق شق رولز میں شامل ہونی چاہیے تھی۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز سب کے سامنے نہیں بنے، ان کا نوٹ اس حوالے سے موجود ہے۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے معاملے کو اندرونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے عدالت میں زیر بحث نہ لایا جائے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے بتایا کہ 24 ججز کی میٹنگ میں رولز پر بات ہوئی، اعتراضات سامنے آئے تو معاملہ تمام ججز کے سامنے رکھا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ رولز سرکولیشن سے بنے تھے، چند ججز نے آؤٹ پٹ دیا، کچھ شریک نہ ہو سکے۔
جسٹس عائشہ ملک نے وضاحت کی کہ کمیٹی کے پاس بینچز بنانے کا اختیار ہے، فل کورٹ بنانے کا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے اختیارات کو چیف جسٹس کے اختیارات نہیں کہا جا سکتا۔ جسٹس امین الدین نے سوال اٹھایا کہ کیا چیف جسٹس فل کورٹ بنا سکتے ہیں جس میں آئینی بینچ کے تمام ججز شامل ہوں؟ وکیل عابد زبیری نے جواب دیا کہ چیف جسٹس کے پاس فل کورٹ بنانے کا اختیار اب بھی موجود ہے۔
سماعت کے دوران وکیل عابد زبیری، جو سپریم کورٹ بار کے سابق صدور کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے دلائل جاری رکھے۔