وزیرصحت ڈاکٹرعذرا پیچوہوکی زیرصدارت خسرہ وروبیلاویکسینیشن مہم سےمتعلق صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی کااجلاس،17نومبرسےشروع ہونے والی مہم کاجائزہ اورحکمت عملی پرگفتگو
پاکستان میں رواں سال12,732خسرہ وروبیلا کیسز،سندھ میں
4000کیسزرپورٹ،کراچی،تھرپارکر، خیرپور ہاٹ اسپاٹ،اجلاس میں بریفنگ
مہم کے دوران8لاکھ سےزائدبچوں کو ویکسین دینے کا ہدف،6ہزار ٹیمیں تشکیل، انکار کے کیسز کی نگرانی سخت اور آگاہی مہم مزید مؤثر ہوگی، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو
تمام ڈی ایچ اوز مائیکرو پلان اپ ڈیٹ کریں،فکسڈاورآؤٹ ریچ سینٹرزکی تعداد بڑھائیں،ویسٹ ڈسپوزل سسٹم مؤثر بنائیں،صفائی کے اصولوں پرسختی سے عمل کیا جائے، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو
عوام میں آگاہی،بھرپور مہم چلائی جائے،والدین کو ویکسین کی اہمیت سمجھائیں، پیغام عام کریں،غلط معلومات یا افواہیں برداشت نہیں،سوشل میڈیا یاپرغلط خبروں کےخلاف سائبر کرائم کی کارروائی ہوگی، وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی ڈی جی محکمہ اطلاعات کو ہدایات
کراچی وزیر صحت و بہبود آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی زیر صدارت خسرہ و روبیلا ویکسینیشن مہم سے متعلق پہلی صوبائی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں 17 سے 29 نومبر 2025 تک صوبے بھر میں خسرہ و روبیلا (ایم آر) سے بچاؤ کے لیے کی جانے والی مہم کا جائزہ اور حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس میں وزیر صحت عذرا پیچوہو کی جانب سے سخت حکم دیا گیا کہ مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر چیز پر کڑی نگرانی رکھی جائے گی۔
اجلاس میں ای پی آئی سندھ، نیشنل امیونائزیشن ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (نائی ٹیگ)، نرسنگ، پی پی ایچ آئی، ڈی جی محکمہ اطلاعات، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، ہیلپ فاؤنڈیشن سمیت مختلف اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیر صحت کو بتایا گیا کہ 17 نومبر سے صوبے بھر میں خسرہ و روبیلا (ایم آر) سے بچاؤ کے لیے باقاعدہ مہم کا آغاز کیا جائےگا جبکہ منتخب اضلاع میں پولیو کے قطرے بھی پلائے جائیں گے۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ پاکستان میں رواں سال 12,732 خسرہ و روبیلا کے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ سندھ میں رواں سال 4000 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ کراچی، تھرپارکر اور خیرپور سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع رہے۔ اجلاس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے سخت ہدایات جاری کیں کہ 17 نومبر سے شروع ہونے والی مہم کے دوران 8.2 ملین بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے لیے 6000 ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔
ہر ویکسینیٹر روزانہ پچاس سے زائد بچوں کو ویکسین دے گا۔ مہم کی کوالٹی بہتر بنانا، جعلی اندراجات روکنا، تمام انکار کے کیسز کی نگرانی کرنا اور آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ہدایت کی کہ ویکسینیٹرز کی لوکیشن اور کام کے اوقات کی سخت مانیٹرنگ کی جائے۔ تمام اسپتالوں کو آن بورڈ لیا جائے، پیڈیاٹرک ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں اور بچوں کی صحت و حفاظت کے لیے ہر ممکن انتظام کیا جائے۔
وزیر صحت نے کہا کہ تمام سول سوسائٹی تنظیمیں، ایسوسی ایشنز اور اسٹیک ہولڈرز یکم نومبر تک اپنی رپورٹس جمع کرائیں۔ نجی اسکولوں کا تعاون لازمی ہے اور جو اسکول تعاون نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی ہوگی کیونکہ یہ مہم ہمارے بچوں اور قوم کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہے۔
وزیر صحت نے واضح پیغام دیاکہ خسرہ و روبیلا ویکسینیشن لازمی قرار دی گئی ہے اور والدین کے لیے ہر بچے کو ویکسین لگوانا قانونی طور پر ضروری ہے، بصورت دیگر قانون کے تحت کارروائی ہوگی۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات معیز پیرزادہ کو ہدایات جاری کی کہ عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائی جائے تاکہ ہر والدین کو اس ویکسین کی اہمیت سمجھائی جا سکے۔
میڈیا کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جائے کہ "ہر بچہ اس ویکسین کا مستحق ہے"۔کسی بھی قسم کی غلط معلومات یا افواہیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔ سوشل میڈیا یا کسی چینل کے ذریعے غلط خبریں پھیلانے والوں کے خلاف سائبر کرائم کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ تمام ڈی ایچ اوز اپنے اضلاع کے مائیکرو پلان کو اپ ڈیٹ کریں۔ فکسڈ اور آؤٹ ریچ سینٹرز کی تعداد بڑھائیں۔
ویسٹ ڈسپوزل سسٹم مؤثر بنایا جائے اور صفائی کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے۔ اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ 140 نئے ویکسینیٹرز کو بھی کارکردگی کی بنیاد پر بھرتی کیاگیا ہے جو خدمات انجام دیں گے۔ مہم کے دوران ہیلتھ فسیلٹی، اسکول آؤٹ ریچ، کمیونٹی آؤٹ ریچ اور موبائل ٹیموں کے ذریعے ویکسین لگائی جائے گی۔
وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے سیکیورٹی کے حوالے سے تمام محکموں کو تحریری خط لکھنے کاحکم بھی جاری کیا اور کہا کہ 1122، پولیس اور محکمہ داخلہ کے تعاون سے ٹیموں کی سیکیورٹی کا بندوبست ہوگا تاکہ کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیر صحت نے پیغام دیا کہ ہمیں ہر سال یہ مہم جاری رکھنی ہے تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے۔
نجی اسکول ایسوسی ایشنز کو تعلیم و صحت کے محکمے کے ذریعے مشاورت کے لیے طلب کیا جائے اور یونیسف سمیت تمام اداروں کے تعاون سے آگاہی سیشنز منعقد کیے جائیں تاکہ والدین کو اس مہم کی اہمیت سے آگاہ کیا جاسکے۔ یہ قومی فریضہ ہے اور صوبائی حکومت آزادانہ طور پر فیصلے کرے گی۔ مقصد صرف ایک ہے کہ سندھ کا کوئی بچہ خسرہ و روبیلا ویکسین سے محروم نہ رہے۔