اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ 169 زخمی ہو گئے۔ دھماکے کے بعد وفاقی دارالحکومت میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب نمازی پہلی رکعت کے سجدے میں تھے۔ دھماکے کی شدت کے باعث امام بارگاہ میں چیخ و پکار مچ گئی اور ہر طرف دھواں پھیل گیا۔
دھماکے میں زخمی ہونے والے زاہد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ نماز ایک بجے شروع ہوئی تھی اور وہ آخری صف میں کونے پر کھڑے تھے۔
’دھماکے کے بعد میں بے ہوش ہو گیا تھا، اب ہوش آیا ہے۔ خوش قسمتی سے مجھے شدید چوٹیں نہیں آئیں۔‘
زاہد علی کے کزن جواد خان کے مطابق وہ دونوں اکٹھے نماز کے لیے آئے تھے تاہم وضو کی وجہ سے تاخیر ہو گئی۔
’جب میں وضو کر کے واپس آیا تو نمازی سجدے میں جا چکے تھے۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ ایک خودکش بمبار نے مرکزی گیٹ پر موجود سکیورٹی گارڈ پر فائرنگ کی، اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔‘
ان کے مطابق اس موقع پر مزید فائرنگ بھی کی گئی۔
ایک اور عینی شاہد حیدر عباس رضوی نے بتایا کہ دو مسلح افراد جدید اسلحے کے ساتھ امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر پہنچے اور سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔
’فائرنگ سے دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو کر گر گئے جبکہ تیسرے اہلکار نے جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک حملہ آور فرار ہو گیا۔‘
حیدر عباس رضوی کے مطابق دوسرا حملہ آور فائرنگ کرتا ہوا امام بارگاہ کے اندر داخل ہوا، جہاں سکیورٹی اہلکار کی گولی لگنے کے بعد وہ زمین پر گرا اور زوردار دھماکہ ہوا۔
’اس وقت مرکزی دروازے کے اندر بڑی تعداد میں لوگ مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ اگر حملہ آور مسجد کے اندر پہنچ جاتا تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔‘
ایک اور عینی شاہد رضا جعفر نے بتایا کہ امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر بالخصوص نماز کے اوقات میں چھ سکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔
’ان میں سے تین افراد نمازیوں کی تلاشی لیتے ہیں جبکہ تین مسلح ہوتے ہیں۔ چند سال قبل بھی اس امام بارگاہ کو شدت پسندی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی تاہم بروقت کارروائی کے باعث حملہ آور ناکام رہے تھے۔‘
حیدر عباس رضوی نے بتایا کہ دھماکے کے بعد جائے وقوعہ پر درجنوں لاشیں اور انسانی اعضا بکھرے پڑے تھے جبکہ گوشت کے لوتھڑے چھت اور دیواروں سے چپکے ہوئے تھے۔
’لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں اور لاشوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔‘
دھماکے میں زخمی ہونے والے ظہیر عباس نے بتایا کہ وہ پہلی رکعت میں تھے کہ دو گولیوں کی آواز سنی۔
’ہم رکوع کے بعد سجدے میں گئے ہی تھے کہ اچانک زور دار دھماکہ ہوا۔ ہر طرف زخمی پڑے تھے اور میں اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔ کچھ ہی دیر میں پولیس اور ریسکیو اہلکار پہنچ گئے اور مجھے ہسپتال منتقل کیا گیا۔‘
ان کے مطابق دھماکے کی آواز کا اثر اب تک ان پر موجود ہے۔
جائے وقوعہ اور سکیورٹی صورتحال
امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ کومسیٹ یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے قریب واقع ہے اور یہ علاقہ ریڈ زون سے تقریباً 12 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ فرانزک ٹیموں نے جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ رینجرز اور فوج کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے اور سکیورٹی سنبھال لی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق دو حملہ آوروں میں سے ایک کے فرار ہونے کے باوجود بعض افراد جائے وقوعہ پر موجود رہے، تاہم پولیس نے بارہا عوام سے علاقہ خالی کرنے کی اپیل کی۔
پولیس کے مطابق دوسرے مبینہ خودکش حملہ آور کی تلاش کے لیے اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں