کوئٹہ: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس

سدرہ عارف سدرہ عارف

  کوئٹہ: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس


کوئٹہ: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کمانڈر کوئٹہ کور سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔  


اجلاس میں پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کی شدید مذمت کی گئی اور پاک فوج کی مؤثر دفاعی حکمتِ عملی و بروقت جوابی کارروائیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ شرکاء نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔  


محکمہ داخلہ نے امن و امان کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے راستے تقریباً 10 لاکھ افغان مہاجرین کو واپس بھجوایا جا چکا ہے۔ غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور مستند اطلاع دینے والوں کے لیے 50 ہزار روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔  


بریفنگ میں بتایا گیا کہ پوست کی کاشت میں ملوث عناصر کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 330 افراد کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ہیں، جبکہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث 9 افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے برطرفی کے لیے شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اجلاس میں دہشتگردی میں ملوث عناصر کے اہل خانہ کی جانب سے اظہارِ لاتعلقی کو مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔  


ایف آئی اے حکام نے حوالہ ہنڈی اور بھتہ خوری کے خلاف کارروائیوں پر بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ 24 ملزمان گرفتار اور 16 کو سزائیں دلوائی جا چکی ہیں۔ اپیکس کمیٹی نے ایف آئی اے کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔  


تعلیم کے شعبے میں ایک سال کے دوران 2 لاکھ آؤٹ آف اسکول بچوں کو داخل کیا گیا، جبکہ بلوچستان کی 12 جامعات میں سے 10 میں بائیو میٹرک حاضری نظام نصب کیا گیا ہے۔ آئندہ مرحلے میں کالجز اور اسکولوں میں بھی بائیو میٹرک نظام متعارف کرانے کی ہدایت دی گئی۔  


وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ معاشرے میں ریاستی رٹ مستحکم ہو رہی ہے، دہشتگردی کے خلاف ریاستی بیانیے کو مضبوط اور واضح بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدور کا بچہ مزدور نہیں رہے گا، تعلیم اور میرٹ کے ذریعے نئی منزلیں حاصل کرے گا۔  


وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ 28 ہزار بلوچ نوجوان آرمی اور ایف سی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ امن کے لیے تمام ادارے متحد ہیں اور کسی کو امن سبوتاژ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ بلوچستان میں ترقی، تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانا ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے۔ ریاست مخالف پروپیگنڈا کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی اور سخت کارروائی کی جائے گی۔