وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز شریک ہوئے۔
اجلاس میں اخراجات میں کفایت شعاری، طلبہ کی حاضری اور ریڈکس سسٹم پالیسی، خواتین کے جائیداد کے حقوق کے ایکٹ، اور دیگر اہم امور پر غور کیا گیا۔سندھ کابینہ نے سندھ انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ 2026کے ڈرافٹ پر غور کیا۔وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق نیا قانون خواتین کو جائیداد اور وراثت میں جائز حق دلانے کے لیے تیز رفتار نظام فراہم کرے گا اور خواتین کی جائیداد کو ہراسانی، دھوکہ دہی اور غیر قانونی قبضے سے تحفظ دے گا۔کابینہ نے اسکولوں کے لیے ڈیجیٹل نگرانی کا نظام بھی منظورکرلیا ۔موبائل ایپ اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے طلبہ کی حاضری اور داخلوں کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔نیا نظام غیر حاضری اور ڈراپ آؤٹ ریٹ کم کرنے میں مدد دے گا اور ایک سال میں سندھ کے تمام اسکولوں میں نافذ کیا جائے گا۔سندھ کابینہ نے انفراسٹرکچر سیس قانون میں ترمیم کی منظوری بھی دی۔کابینہ نے مارکیٹ میں استحکام کے لیے گندم ریلیز پالیسی میں توسیع کا فیصلہ کیا۔گندم کی فراہمی آٹا ملوں، چکیوں اور لائسنس یافتہ تاجروں کو کی جائے گی۔اجلاس میں قومی کمیشن برائے اقلیتوں میں سندھ کے نمائندے بھی نامزد کیے گئے، جبکہ بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے اور نرسنگ اسکول کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔