پاکستان میں غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت اور ادویاتی پودوں کی بے تحاشا کٹائی، قدرتی ورثہ خطرے میں

رباب ابراہیم رباب ابراہیم

 پاکستان میں غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت اور ادویاتی پودوں کی بے تحاشا کٹائی، قدرتی ورثہ خطرے میں


پاکستان میں غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت اور ادویاتی پودوں کی بے تحاشا کٹائی، قدرتی ورثہ خطرے میں

اگر جنگلات خاموش ہو جائیں، نایاب جانور نظروں سے اوجھل ہو جائیں اور پہاڑوں میں اگنے والے قیمتی پودے ختم ہونے لگیں تو یہ صرف قدرتی حسن کا نقصان نہیں بلکہ انسانی زندگی اور معیشت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی منظر ابھرتا دکھائی دے رہا ہے جہاں غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت اور ادویاتی پودوں کی اندھا دھند کٹائی ملک کی حیاتیاتی دولت کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ جنگلی حیات کے عالمی دن 2026 کے موقع پر ماحولیاتی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو کئی قیمتی جانور اور پودے ہمیشہ کے لیے قدرتی ماحول سے غائب ہو سکتے ہیں۔

اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں جاری کردہ اپنے پیغام میں ڈبلیو ڈبلیو ایف  پاکستان نے کہا کہ جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت دنیا بھر میں ایک بڑا ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے اور پاکستان اس غیر قانونی نیٹ ورک میں کبھی ذریعہ تو کبھی گزرگاہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث مختلف اقسام کے جانور اور قیمتی پودے خطرے کی زد میں آ رہے ہیں جبکہ پہلے سے دباؤ کا شکار قدرتی نظام مزید کمزور ہو رہے ہیں۔

غیر قانونی تجارت: ایک بڑھتا ہوا مسئلہ

ماہرین کے مطابق جنگلی جانوروں اور پودوں کی اسمگلنگ ایک منافع بخش مگر غیر قانونی کاروبار ہے جس میں دنیا بھر کے کئی ممالک شامل ہیں۔ پاکستان میں بھی رینگنے والے جانور، ممالیہ، پرندے اور قیمتی ادویاتی پودے غیر قانونی شکار یا غیر قانونی طریقوں  کے ذریعے حاصل کیے جاتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف جنگلی حیات کی تعداد کو کم کرتا ہے بلکہ جنگلات، پہاڑی علاقوں اور صحراؤں میں موجود قدرتی نظام کو بھی متاثر کرتا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی علاقے سے جانور یا پودے بڑی تعداد میں نکال لیے جاتے ہیں تو اس کے اثرات پورے قدرتی نظام پر پڑتے ہیں۔ کئی جانور جنگلات میں بیج پھیلانے، کیڑوں کی تعداد کو متوازن رکھنے اور ماحول کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے پودے مٹی کو مضبوط رکھنے، بارش کے پانی کو جذب کرنے اور مقامی لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بننے میں مدد دیتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق غیر قانونی شکار اور تجارت کی روک تھام کے لیے ادارہ حکومتی محکموں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر ہو۔

تربیت اور آگاہی کی کوششیں

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر منیجر کنزرویشن محمد جمشید اقبال چوہدری کے مطابق ادارے نے جنگلی حیات سے متعلق جرائم کی روک تھام کے لیے ایک جامع تربیتی پروگرام تیار کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں تربیتی نشستیں منعقد کی جا رہی ہیں جن میں جنگلی حیات کی نگرانی کے جدید طریقے، مختلف اقسام کے جانوروں اور پودوں کی شناخت، جنگلی حیات کے جرائم کی تحقیقات، رینجرز کی حفاظت اور جانوروں کو محفوظ انداز میں سنبھالنے جیسے موضوعات شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے اب تک بارہ سو سے زائد افراد کو آگاہی دی جا چکی ہے۔ ان افراد میں مقامی کمیونٹی کے لوگ، طلبہ، صحافی اور مقامی رہنما شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق عوامی شعور میں اضافہ اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ مقامی آبادی اکثر جنگلات اور پہاڑی علاقوں میں ہونے والی سرگرمیوں سے براہ راست واقف ہوتی ہے۔

دیوا وٹالا نیشنل پارک میں مثبت پیش رفت

حال ہی میں آزاد جموں و کشمیر کے دیوا وٹالا نیشنل پارک میں ہونے والی سرگرمیوں کو جنگلی حیات کے تحفظ کی ایک مثبت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی تنظیم نے مقامی کمیونٹیز اور آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلی حیات کے تعاون سے یہاں کئی جانوروں کو بچا کر دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑا۔

ان جانوروں میں راک پائتھن، انڈین پینگولن، بارکنگ ڈئیر اور الیگزینڈرین طوطے شامل تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف نایاب جانوروں کی بقا میں مدد دیتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں میں بھی جنگلی حیات کے تحفظ کا شعور پیدا کرتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر پروگرامز رب نواز کے مطابق مؤثر تحفظ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قانون پر سختی سے عمل نہ ہو اور عوام اس عمل میں شریک نہ ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بنانے اور مقامی آبادی کو شامل کرنے سے پاکستان میں جنگلی حیات سے متعلق جرائم کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ادویاتی پودے بھی خطرے میں

رواں سال جنگلی حیات کے عالمی دن  کا موضوع" ادویاتی اور خوشبودار پودوں کے تحفظ پر مبنی ہے"، جس کا مقصد ان پودوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان میں ایسے پودوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو روایتی طب، ہربل ادویات اور مقامی صنعتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

ان پودوں میں شتاوری، بنفشہ، جٹامانسی اور کُتھ نمایاں ہیں۔ بلوچستان اور سندھ کے خشک علاقوں میں گُگگل نامی پودے سے قیمتی رال حاصل کی جاتی ہے جبکہ شمالی علاقوں کے جنگلات سے ایفیڈرا اور  برگینیا سیلیٹا  جیسے پودے ادویاتی مقاصد کے لیے جمع کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان پودوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ان کی کٹائی میں تیزی آ گئی ہے۔ کئی جگہوں پر انہیں جڑ سمیت کاٹ لیا جاتا ہے جس سے ان کی دوبارہ افزائش مشکل ہو جاتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف یہ پودے معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں بلکہ مقامی لوگوں کے روزگار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

پس منظر اور عالمی صورتحال

عالمی سطح پر ادویاتی پودوں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ دنیا بھر میں ہربل ادویات اور قدرتی علاج کے طریقوں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان پودوں کو سوچ سمجھ کر جمع نہ کیا جائے تو قدرتی ذخائر تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔بین الاقوامی اندازوں کے مطابق دنیا میں موجود ادویاتی پودوں میں سے بیس فیصد سے زیادہ اب معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں قدرتی مسکن کی تباہی، موسمیاتی تبدیلی اور غیر قانونی تجارت شامل ہیں۔

مسئلے کا حل کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق اس مسئلے کا حل صرف سخت قوانین سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس حکمت عملی میں جنگلات کے بہتر انتظام، مقامی کمیونٹی کی شمولیت، تحقیق اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے جیسے اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔

ادویاتی پودوں کے حوالے سے ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ ان کی کاشت کو فروغ دیا جائے تاکہ جنگلات پر دباؤ کم ہو سکے۔ اسی طرح مقامی لوگوں کو تربیت دی جائے کہ وہ پودوں کو اس طرح جمع کریں کہ وہ دوبارہ اگ سکیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان قدرتی وسائل اور حیاتیاتی دولت سے مالا مال ملک ہے، لیکن اس دولت کا تحفظ اس وقت ہی ممکن ہے جب حکومت، مقامی کمیونٹیز، ماہرین اور عوام مل کر اس کی حفاظت کریں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں ان قیمتی جانوروں اور پودوں کو صرف کتابوں اور تصاویر میں ہی دیکھ سکیں گی۔