”بے شک ہر عروج کو زوال ہے “ ”ماروی میمن “

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

”بے شک ہر عروج کو زوال ہے “                              ”ماروی میمن “


تحریر سردار شعیب

میدانٍ سیاست کی بُلبُل، سیاست کی رانی، ملکہِ حُسن و جمال کہلانے والی سینٸر سابق سیاستدان نثار میمن کی بیٹی سابق وزیر مملکت و چیٸر پرسن بنظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان ماوری میمن کو کون نہیں جانتا ؟

ایک وقت تھا ماروی میمن کا پاکستانی سیاست پر راج تھا کشمالہ طارق کی طرح ماروی میمن بھی ہر ایک تقریب کی میں اسٹیج کی زینت ہوا کرتی تھی۔


پاکستانی سیاست میں وہ اپنے والد سابق سینٸر سیاستدان سابق وفاقی وزیر اطلاعات سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے قریبی ساتھی نثار میمن کی سیاست کو خیر آباد کہنے کے بعد  2008 میں سیاست میں فعال ہوٸی اور صوبہ سندھ سے تعلق ہونے کے باوجود پنجاب سے ق لیگ کے کوٹے پر خواتین کی مخصوص نشست پر رکن صوباٸی اسمبلی منتخب ہوٸی اور پھر پاکستانی سیاست کے افق پر ہر سو چھا گٸیں ، اسمبلی کا ایوان ہو یا پھر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کا محاذ ہو یا پھر سیاست کا کوٸی بھی میدان ہو ہر جگہ ماروی میمن کا طوطی بولتا تھا۔


جنرل مشرف کی ق لیگ زوال پزیر ہونے لگی تو ماروی میمن نے بھی اپنی سیاسی راہیں جدا کرلیں اور اپنا سیاسی سفر مسلم لیگ ن کے سنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوٸے

2012 میں مسلم لیگ( ن) میں شمولیت اختیار کرلی مگر اب کی بار قسمت کی دیوی کچھ زیادہ ہی ماروی میمن پر مہربان رہی اور بغیر کسی سیاسی جدوجہد کے ماروی میمن خواتین کی مخصوص نشست پر 2013 کے عام انتخابات کے بعد رکن قومی اسمبلی منتخب ہوٸی قسمت کی دیوی نے مزید ایک ساتھ کٸی اور مہربانیاں بھی کرتے ہوٸے اس وقت کی ایک طاقتور ترین سیاسی شخصیت کی پرزور سفارش اور خواہش پر وزیر مملکت کے ساتھ ساتھ ماروی میمن کو چیٸر پرسن بنظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی بنا دیا گیا اور پھر یہ خبر بھی ہر طرف عام ہوٸی کہ ماروی میمن اسی طاقتور ترین سیاسی شخصیت کے ساتھ دوسری شادی کرتے ہوٸے نکاح کے بندھن میں بندھ چکی ہے اور یہ نکاح خفیہ طور پر اسلام آباد کے منسٹر انکلیو کے ایک کمرے میں دو ملازمین کی گواہی میں منعقد ہوا ہے اس مبینہ خفیہ شادی کی تصدیق یا تردید کبھی دونوں جانب سے نہیں ہوسکی۔


 مگر پھر 2018 کے عام انتخابات سے چند روز قبل یہ خبر بھی عام ہوٸی کہ ماروی میمن اور انکے مبینہ شوہر کی راہیں جدا ہوچکی ہیں اور ماروی میمن کی اسطرح ایک بار پھر بدقسمتی سے دوسری شادی بھی ٹوٹ چکی ہے (واضح رہے اس سے قبل بھی انکی ایک شادی ہوٸی تھی انکے سابق شوہر سے ایک بیٹا بھی ہے) اسی کے ساتھ ہی اس طاقتور ترین سیاسی شخصیت پر نیب ، ایف آٸی اے، سمیت دیگر کٸ اداروں نے محاسبہ کرتے ہوٸے کیس بنا دیٸے یکے بعد دیگرے عدالتوں سے اس طاقتور ترین شخصیت کے خلاف فیصلے آنے لگے اور مجبوراً اس طاقتور ترین سیاسی شخصیت نے سیاسی پناہ حاصل کرنے کیلٸے برطانیہ کا رخ کرلیا اور خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی مگر عین اس لمحے ماروی میمن بھی منظر عام سے غاٸب ہوگٸ اور سیاست کی  دنیا سے ماروی میمن کا بھی انکے والد نثار میمن کی طرح نام و نشان مٹ گیا۔


مگر آج ماروی میمن اچانک ایک پریس کانفرنس کرتے ہوٸے جب منظر عام پر آٸیں تو دیکھنے والے دیکھ کر اچانک دھنگ رہ گٸے کیونکہ وہ پہلے سی ماروی میمن اب نہیں رہی سیاست کے ساتھ انکی خوبصورت جوانی، دلکش حسن کو بھی اب گرہن لگ چکا ہے، 54 سالہ ماروی میمن کے چہرے کی وہ پہلی سی رنگت، وہ پہلی سی خوبصورتی، وہ حسن و جمال سب کچھ مانند پڑھ چکا ہے ماروی میمن تمام تر میک اپ اور دلکش لباس زیب تن کرنے کے باوجود بڑھاپے کی دہلیز کی جانب گامزن ہوچکی ہیں ماروی میمن کی سیاست کے ساتھ ساتھ انکی خوبصورتی و حسن کو بھی زوال آچکا ہے ماروی میمن کو بحثیت ایک سیاسی کارکن کے ہم نے بہت قریب سے دیکھا ہم نے ماروی میمن کا ایک دور دیکھا ہے ایک عروج دیکھا ہے ہم نے ماروی میمن کا چڑھتا ہوا سورج اور بولتا ہوا طوطی دیکھا ہے ہم نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب ماروی میمن کو ملنے کے لیٸے بڑے بڑے لوگ لاٸن میں کھڑے ہوکر پھولوں کا مالا اور گلدستے لے کر انتظار کیا کرتے تھے،


  مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب کراچی اٸیرپورٹ پر ہزاروں افراد ماروی میمن کے استقبال کیلٸے اُمڈ آٸے تھے اور ماروی میمن کا کراچی پہنچنے پر ایک تاریخی استقبال ہوا تھا اور ایک بہت بڑی ریلی کی صورت میں انھیں اٸیرپورٹ سے مسلم لیگ ہاٶس کارساز تک لے جایا گیا تھا مگر وقت بدلا، حالات بدلے ، عہدٍ زوال میں اپنے والد نثار میمن کے طرز پر سیاسی پارٹیاں بدلنے والی ماروی میمن آج سیاسی طور پر نا صرف خود شدید زوال کا شکار ہے بلکہ اب وہ پہلے سا شباب ،حسین جوانی،  دلکش چہرہ، اور گلابی رنگت بھی زوال پزیر ہوچکی ہے، یقنناً سدا کچھ بھی ایک جیسا نہیں رہتا سچ کسی نے کہا ہیکہ سدا بادشاہی صرف سونڑے رب دی۔

 ایسے میں مجھے معروف صوفی بزرگ شاعر میاں محمد بخش کے چند اشعار یاد آگٸے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میاں محمد بخشؒ فرماتے ہیں کہ:


سَدا نہ باغیں بُلبُل بولے ، سَدا نہ باغ بہاراں

سدا نہ ماپے ،حُسن جوانی ، سدا نہ صحبت یاراں


پاسے پاسے چلَی جوانی ، پاس نہ سدیا یاراں

ساتھی کون محمّدؔ بخشا دَرد ونڈے غمخواراں


مان نہ کرئیو رُوپ گھنے دا وارث کون حُسن دا

سَدا نہ رہن شاخاں ہَریاں ، سَدا نہ پھُل چمن دا


سَدا نہ رَسد بزاریں وَکسّی سَدا نہ رَونق شہراں

سَدا نہ موج جوانی والی ، سَدا نہ ندیاں نہراں


سَدا نہیں مُرغابیاں بہناں ، سَدا نہیں سَر پانی

سَدا نہ سئیاں سیس گُندا ون سَدا نہ سُرخی لالی


لکھ ہزار بہار حُسن دی خاکو و چہ سمانی

لاء پریت محمّؔد ، جس تھیں جگ وچہ رہے کہانی


سَدا نہ باغیں بُلبُل بولے ، سَدا نہ باغ بہاراں

سدا نہ ماپے ،حُسن جوانی ، سدا نہ صحبت یاراں. 


راقم الحرف: سردار شعیب محمد کھٹانہ