“دماغ اور ٹانگوں کے بیچ”

عمران عمران

“دماغ اور ٹانگوں کے بیچ”

کراچی کی رات ہمیشہ سے دو چہروں والی رہی ہے۔
ایک چہرہ وہ، جو سمندر کے کنارے روشنیوں میں نہاتا ہے، اور دوسرا وہ، جو اندھی گلیوں میں اپنے ہی سائے سے ڈرتا پھرتا ہے۔
اسی دوسرے چہرے کے بیچ کہیں “پنکی” رہتی تھی۔

وہ عورت نہیں، ایک سوال تھی۔
ایسا سوال جس کا جواب ہر مرد اپنے غرور میں ڈھونڈتا رہا، مگر ہار گیا۔

 

دماغ اور ٹانگوں کے بیچ


جس دن دماغ سے سوچنے لگ جاؤ گے، پنکی کی طرح برینڈ بن جاؤ گے۔

یہ جملہ پنکی اکثر سگریٹ کا دھواں چھوڑتے ہوئے کہتی تھی۔
اور سامنے بیٹھے مرد، جو خود کو شہر کا بادشاہ سمجھتے تھے، خاموش ہوجاتے۔

کیونکہ وہ جانتے تھے
یہ عورت جھوٹ نہیں بولتی۔

پنکی کی کہانی کسی فلم کی طرح شروع نہیں ہوئی تھی۔
نہ وہ کسی امیر باپ کی بگڑی ہوئی بیٹی تھی، نہ قسمت کی لاڈلی۔

وہ لیاقت آباد کے ایک تنگ فلیٹ میں پیدا ہوئی تھی جہاں غربت ہمیشہ برتنوں کی آواز میں بولتی تھی۔
باپ بس کنڈیکٹر تھا، ماں سلائی کرتی تھی، اور گھر میں خواب ہمیشہ آٹے سے ہار جاتے تھے۔

پنکی نے چودہ سال کی عمر میں پہلی بار آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے کہا تھا:

خوبصورتی غریب کی سب سے خطرناک دولت ہوتی ہے۔

اور پھر اس نے اپنی دولت بیچنی نہیں، استعمال کرنی سیکھی۔

 

 

ماڈلنگ کی دنیا میں داخل ہوتے ہی اسے معلوم ہوگیا کہ مرد دو چیزوں سے جلد ہارتے ہیں:
تعریف… اور جسم۔

پارٹیوں میں بیٹھے سیاستدان، وکیل، پولیس افسر، بزنس مینسب کی آنکھوں میں ایک ہی بھوک تھی۔
وہ طاقت کی بات کرتے تھے، مگر کمزور خواہشوں کے غلام تھے۔

پنکی اکثر ہنستی تھی۔

یہ مرد ملک چلاتے ہیں؟
یہ تو اپنی نظروں کو نہیں سنبھال سکتے۔

وہ جان گئی تھی کہ اس شہر میں عقل سے زیادہ جسم کی قیمت لگتی ہے۔
تو اس نے فیصلہ کیا کہ اگر بازار یہی مانگتا ہے، تو وہ خود بازار بن جائے گی۔

 

 

کراچی کے پوش علاقوں میں رات کے بعد جو محفلیں سجتی تھیں، وہاں اخلاق نہیں آتا تھا، صرف پیسہ آتا تھا۔
وہاں سفید پاؤڈر، قیمتی شراب اور جھوٹی ہنسیاں بکتی تھیں۔

پنکی انہی محفلوں کی ملکہ بنتی گئی۔

پہلے وہ صرف چہرہ تھی، پھر رابطہ بنی، پھر ضرورت۔
اور آخر میں “برانڈ”۔

لوگ کوکین نہیں مانگتے تھے، “پنکی والا مال” مانگتے تھے۔

وہ کہتی تھی:

غریب آدمی روٹی بیچتا ہے، امیر آدمی ضمیر۔
میں نے صرف ان دونوں کے درمیان کاروبار کیا ہے۔

 

اس نے مردوں کو کبھی محبت نہیں دی۔
صرف وہم دیا۔

کسی کو اپنی ہنسی میں قید کیا، کسی کو اپنی خاموشی میں۔
کوئی اس کے بالوں پر مرتا تھا، کوئی اس کے لہجے پر۔

مگر پنکی جانتی تھی:

مرد کو فتح کرنا مشکل نہیں،
بس اسے محسوس کرواؤ کہ وہ تمہیں حاصل کرسکتا ہے
پھر وہ خود بک جاتا ہے۔

 

ایک پولیس افسر اس کی محبت میں پاگل ہوا۔
اس نے قانون بیچ دیا۔

ایک سیاستدان اس کے قدموں میں بیٹھا رہا۔
اس نے ضمیر بیچ دیا۔

ایک وکیل نے اس کے لیے راستے صاف کیے۔
اس نے ایمان بیچ دیا۔

اور پنکی؟

وہ ہر سودا جیتتی گئی۔

کیونکہ وہ جذبات سے نہیں، حساب سے جیتی تھی۔

 

مگر ہر کامیاب جرم کے پیچھے ایک خوف ہوتا ہے۔
رات کے آخری پہر جب شہر سو جاتا، پنکی اپنے فلیٹ کی بالکونی میں کھڑی سمندر کو دیکھتی رہتی۔

وہ جانتی تھی کہ یہ دولت، یہ شہرت، یہ خوف..سب عارضی ہے۔

انسان جب بہت اوپر چلا جائے تو اسے گرنے سے نہیں، تنہا مرنے سے ڈر لگتا ہے۔

مگر پنکی کو تنہائی سے بھی عشق ہوگیا تھا۔

 

 

 

جس دن پولیس نے اس کے فلیٹ کا دروازہ توڑا، وہ حیران نہیں ہوئی۔

وہ خاموشی سے باتھ روم کی طرف چلی گئی، جیسے پہلے سے جانتی ہو کہ ہر سلطنت کا اختتام ایک بند دروازے کے پیچھے ہوتا ہے۔

پلاسٹک کی تھیلیوں میں بند سفید پاؤڈر فرش پر پھیل گیا۔
افسر اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔

اور پنکی… ہنس رہی تھی۔

ایک نوجوان کانسٹیبل نے غصے سے پوچھا:

اتنا سب کچھ کرکے ملا کیا؟

پنکی نے سگریٹ سلگائی، دھواں اس کے چہرے کے گرد پھیل گیا۔

پھر وہ آہستہ سے بولی:

میں نے اس معاشرے کو وہی بیچا جو یہ خریدنا چاہتا تھا۔
فرق صرف اتنا ہے
تم لوگ خواہشوں کو جرم کہتے ہو، اور امیر لوگ اسے لائف اسٹائل۔

کمرے میں خاموشی اتر گئی۔

 

جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی پنکی ویسی ہی رہی۔
مغرور۔
سرد۔
ناقابلِ رحم۔

اسے پچھتاوا نہیں تھا۔

کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس شہر میں جرم صرف غریب کے حصے میں آتا ہے،
طاقت ور کے حصے میں “اثر و رسوخ”۔

 

 

 

کراچی آج بھی ویسا ہی ہے۔
پارٹیاں آج بھی ہوتی ہیں۔
سفید پاؤڈر آج بھی بکتا ہے۔
اور مرد آج بھی اپنی خواہشوں کے ہاتھوں ہارتے ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ اب ہر نئی لڑکی، جو غربت سے نکل کر طاقت تک پہنچنا چاہتی ہے، کہیں نہ کہیں پنکی کی کہانی سن چکی ہے۔

وہ جانتی ہے:

اس دنیا میں جسم دروازہ کھول سکتا ہے
مگر سلطنت ہمیشہ دماغ بناتا ہے۔

اور شاید اسی لیے پنکی آخری دن تک ہارتی ہوئی بھی خطرناک رہی۔
کیونکہ وہ عورت نہیں تھی

وہ اس معاشرے کا وہ آئینہ تھی
جسے ہر شخص دیکھتا ہے،
مگر مانتا کوئی نہیں۔