ہزاروں
کلومیٹر کا طویل اور تھکا دینے والا سفر طے کر کے جب سائبیریا کی برفانی ہواؤں سے
بچنے کے لیے ایک ننھا پرندہ پاکستان کی کسی جھیل یا ساحلی پٹی پر اترتا ہے، تو اسے
ایک محفوظ پناہ گاہ کے بجائے اکثر اوقات زہریلے پانی، سوکھتی ہوئی دلدلوں اور
شکاریوں کی بندوقوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ کوئی افسانوی کہانی نہیں بلکہ ان
لاکھوں مہاجر پرندوں کی تلخ حقیقت ہے جو ہر سال 'انڈس فلائی وے' کے راستے پاکستان
کا رخ کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر نقل مکانی کرنے والے ان پرندوں کے لیے پاکستان کا
جغرافیائی محل وقوع ایک انتہائی اہم میزبان کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن ہمارے
ماحولیاتی نظام کی بگڑتی ہوئی صورتحال ان بے زبان مہمانوں کے لیے موت کا جال بنتی
جا رہی ہے۔ عالمی یومِ مہاجر پرندے کے موقع پر ڈبلیو ڈبلیو ایف (WWF) پاکستان نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی
بجاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں یہ
پرندے صرف کتابوں اور تصویروں تک محدود رہ جائیں گے۔
دنیا بھر
میں پرندوں کی ہجرت کے چند بڑے اور معروف راستے ہیں، جن میں سے ایک 'انڈس فلائی
وے' (Indus
Flyway) ہے جسے بین الاقوامی سطح پر روٹ نمبر چار بھی کہا جاتا ہے۔ یہ
راستہ سائبیریا اور وسطی ایشیا کے سرد ترین علاقوں سے شروع ہو کر قراقرم اور
ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں کو عبور کرتا ہوا پاکستان کے میدانی علاقوں، دریائے
سندھ کے طاس، انڈس ڈیلٹا اور بحیرہ عرب کے ساحلوں تک پھیلتا ہے۔ قدرت نے اس راستے
کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ پرندے اپنے سفر کے دوران پاکستان کی مختلف جھیلوں،
ندیوں اور ساحلی علاقوں میں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ ان پرندوں میں بطخوں کی مختلف اقسام،
راج ہنس، کونجیں، نایاب تلور، شکاری پرندے اور ساحلی علاقوں میں پائے جانے والے
دیگر پرندے شامل ہیں۔ یہ آبی گزرگاہیں اور ساحلی پٹیاں ان کے لیے صرف آرام گاہیں
نہیں ہیں، بلکہ سردیاں گزارنے اور خوراک حاصل کرنے کے لیے زندگی اور موت کی اہمیت
رکھتی ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں ان قدرتی ٹھکانوں پر انسانی سرگرمیوں کا دباؤ اس
حد تک بڑھ چکا ہے کہ انڈس فلائی وے اب پرندوں کے لیے ایک محفوظ راستہ نہیں رہا۔
سکڑتی
ہوئی جھیلیں اور بقا کے سنگین خطرات
پاکستان
میں آبی گزرگاہوں اور قدرتی جھیلوں کا ماحولیاتی نظام انتہائی تیزی سے زوال پذیر
ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور زراعت کے لیے زمین کے بے دریغ
استعمال نے ان قدرتی ٹھکانوں کو نگلنا شروع کر دیا ہے۔ ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں
کے باعث بارشوں کے معمولات بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے کئی اہم جھیلیں
اور دلدلی علاقے خشک ہو رہے ہیں، تو دوسری جانب صنعتوں کا کیمیائی فضلہ اور شہروں
کا گندا پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے سیدھا ندیوں اور سمندر میں گرایا جا رہا ہے۔ انڈس
ڈیلٹا اور دیگر ساحلی پٹیوں میں جہاں کبھی ان مہاجر پرندوں کے غول کے غول اترتے
تھے، اب وہاں آلودگی کے باعث آبی حیات ختم ہوتی جا رہی ہے، جو ان پرندوں کی بنیادی
خوراک ہے۔
غیر
قانونی شکار- سنگین چیلنج
اس کے
علاوہ غیر قانونی شکار ایک اور سنگین چیلنج ہے۔ بدقسمتی سے، ہجرت کے موسم میں بہت سے شکاری ان
پرندوں کا بے دردی سے شکار کرتے ہیں۔ قانون کی موجودگی کے باوجود اس پر موثر
عملداری کا فقدان ان پرندوں کی آبادی میں تیزی سے کمی کا باعث بن رہا ہے۔ یہ پرندے
صرف خوبصورتی کی علامت نہیں ہیں، بلکہ ہمارے قدرتی نظام کا ایک انتہائی اہم حصہ
ہیں۔ یہ کیڑے مکوڑوں کی ان اقسام کو کنٹرول کرتے ہیں جو فصلوں کے لیے نقصان دہ ہو
سکتی ہیں، بیجوں کے پھیلاؤ میں مدد دیتے ہیں اور اس بات کا زندہ ثبوت ہوتے ہیں کہ
ہماری جھیلیں اور سمندری پانی ماحولیاتی اعتبار سے کتنا صحت مند ہے۔ جب پرندوں کی
آمد میں کمی واقع ہوتی ہے، تو یہ دراصل اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہمارا اپنا
قدرتی ماحول انسانوں کے لیے بھی غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔
ہر
پرندہ اہم ہے': تحفظ میں عام شہریوں کا کلیدی کردار
روایتی طور
پر یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ جنگلی حیات اور ماحولیات کا تحفظ صرف سرکاری محکموں،
بڑی تنظیموں یا سائنسدانوں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان نے مہاجر پرندوں کے عالمی دن 8 مئی 2026 کے موقع پر جس عالمی تھیم کا انتخاب کیا ہے، وہ اس
فرسودہ سوچ کو بدلنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ "ہر پرندہ اہم ہے - آپ کا مشاہدہ
معنی رکھتا ہے!" کے عنوان سے شروع کی گئی یہ مہم دراصل 'سٹیزن سائنس' (Citizen Science) یعنی عوامی سطح پر سائنسی مشاہدے کی اہمیت
کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پرندوں کے تحفظ کے لیے اب ہر عام شہری کو
اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
سیٹیزن سائنس ۔عوامی سطح پر سائنسی مشاہدات
یہ ایک جدید اور انتہائی موثر طریقہ کار ہے جس میں پرندے دیکھنے کے شوقین افراد، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء، صحافی اور فطرت سے محبت کرنے والے عام لوگ اپنے اردگرد موجود پرندوں کا مشاہدہ کرتے ہیں اور وہ معلومات ماہرین تک پہنچاتے ہیں۔ کوئی بھی شخص جب اپنے علاقے کی جھیل یا ساحل پر کسی نئے پرندے کو دیکھتا ہے، اس کی تصویر بناتا ہے یا اس کی موجودگی کو رپورٹ کرتا ہے، تو وہ دراصل ایک بہت بڑے سائنسی عمل کا حصہ بن رہا ہوتا ہے۔ اس عوامی ڈیٹا کی مدد سے سائنسدانوں اور محققین کو یہ سمجھنے میں بے حد مدد ملتی ہے کہ پرندوں کی نقل مکانی کے راستوں میں کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں، ان کی تعداد کتنی رہ گئی ہے اور کن علاقوں میں انہیں فوری تحفظ کی ضرورت ہے۔ عوام کی یہ شمولیت نہ صرف سائنسی تحقیق کو مضبوط بناتی ہے بلکہ نچلی سطح پر ماحولیاتی شعور بیدار کرنے کا سب سے طاقتور ذریعہ بھی ہے۔
ڈبلیو
ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر منیجر کنزرویشن، محمد جمشید اقبال نے اس صورتحال کی
سنگینی کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ
پاکستان مہاجر پرندوں کے لیے عالمی سطح پر ایک انتہائی اہم راستہ ہے، لیکن جھیلوں
کی تباہی، آلودگی اور غیر قانونی شکار جیسے مسائل ان کی بقا کے لیے مسلسل خطرہ بنے
ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بیان محض صرف وارننگ نہیں بلکہ ایک واضح روڈ میپ ہے کہ ہمیں کیا کرنے کی
ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مہاجر پرندوں کے تحفظ کے لیے حکومتی
اداروں، ماحولیاتی تنظیموں، تعلیمی اداروں، مقامی کمیونٹیز اور عام شہریوں سب کو
مل کر ایک مربوط لائحہ عمل کے تحت کام کرنا ہوگا۔
ماحولیاتی
توازن کی بحالی اور دیرپا حل کی جانب سفر
مہاجر
پرندوں کے اس عالمی بحران کا کوئی فوری اور جادوئی حل موجود نہیں، لیکن اگر سنجیدہ
اور مستقل بنیادوں پر حکمت عملی اپنائی جائے تو صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا
جا سکتا ہے۔ سب سے پہلا قدم پاکستان بھر میں موجود تمام بڑی جھیلوں، ساحلی ٹھکانوں
اور انڈس ڈیلٹا کے ماحولیاتی نظام کو قومی ورثہ قرار دے کر ان کا سخت قانونی تحفظ
یقینی بنانا ہے۔ ہمیں ایسی پالیسیاں درکار ہیں جن کے تحت صنعتوں کو پابند کیا جائے
کہ وہ اپنا زہریلا فضلہ آبی گزرگاہوں میں شامل نہ کریں۔
دوسری اہم
ضرورت غیر قانونی شکار کے خلاف زیرو ٹالرنس (صفر برداشت) کی پالیسی ہے۔ محکمہ
جنگلی حیات کو جدید وسائل اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹیز
کو بھی اس مہم کا حصہ بنانا ہوگا۔ اکثر اوقات مقامی لوگ شعور کی کمی یا معاشی
مجبوریوں کی وجہ سے شکار کا حصہ بنتے ہیں۔ اگر ان علاقوں میں ایکو ٹورازم
(ماحولیاتی سیاحت) کو فروغ دیا جائے اور مقامی لوگوں کو پرندوں کی رہنمائی کرنے
والے گائیڈز کے طور پر روزگار فراہم کیا جائے، تو وہی لوگ جو کل تک شکاری تھے، آج
ان پرندوں کے سب سے بڑے محافظ بن سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ
ساتھ، تعلیمی نصاب اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلانے کی
ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ان پرندوں کی اہمیت کا اندازہ ہو سکے۔ پرندے
سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے؛ وہ کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بلکہ پوری انسانیت کا
مشترکہ قدرتی سرمایہ ہیں۔ سائبیریا سے اڑنے والا پرندہ جب انڈس فلائی وے سے گزرتا
ہے، تو وہ ہم پر ایک بہت بڑا اعتماد کرتا ہے۔ اب یہ ہماری اجتماعی اور اخلاقی ذمہ
داری ہے کہ ہم ان کے اس اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچائیں اور انہیں ایک ایسا صاف، محفوظ
اور صحت مند ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔ اگر آج ہم نے ان
قدرتی ٹھکانوں کو بچانے کے لیے عملی قدم نہ اٹھایا تو کل ہماری فضائیں ان خوبصورت
مہمانوں کی چہچہاہٹ سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائیں گی۔