ظفر معراج ایک منفردسا الگ دُنیا کا باسی،خواب اورحقیقت سے نبرد آزماتخلیقی فن کار بلکہ یہ کہوں تو ذیادہ بہتر ہوگا کہ اپنے اندر کئی برتیں لئے ہوئے شدید حساسیت نے اسے جہاں بہت ساری اذیتوں سے نوازا ہے تکلیف میں رکھا ہے وہاں اسے بطور ایک لکھاری کے بہت ساری تخلیقی استعداد دیتے ہوئے ایک نباض ڈرامہ نویس بنا دیا ہے جو معاشرے پرگہری نگاہ رکھتے ہوئے اپنے کرداروں کے ذریعے نشتر چھبوتا ہؤا آگے بڑھتا ہے ظفرمعراج کے بہت قریب رہتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں انفرادی مزاج رکھنے کے باوجود وہ سوچ اجتماعی رکھتاہے،(جو اس کی تحریروں سے جھلکتا ہے)
نئی دنیا کی سوچ رکھنے کے باوجود روایتی لوگوں میں جی رہا ہے معاشی طور پر خاصا مستحکم ہونے کے باوجود اپنی انکساری کو مسکینی کی حدتک سامنے لاتا ہے،بہت خوب صورت اور مقبول ڈرامے، افسانہ نگاری کچھ خاص مواقع اور حالات کانوحہ کرتی نظمیں لکھنے کے بعد داد لیتے ہوئے بس اتنا کہہ پاتا ہے،۔۔۔بس کوشش ہے اور کچھ نہیں،اپنے چاہنے والوں کو دنوں اتنا قریب لے آتا کہ اُس کا حلقہ احباب اس کے بغیر نہیں رہ پاتا،دانشوری کی وہ سند رکھتا ہے جو کئی ایم فل اور پی ایچ ڈی رکھنے والوں کے پاس نہیں ہے
ظفری رشتوں کی قید میں آذاد رہنے کا خواہش مند رہاہے
اپنی مرضی کے خلاف چلنے والے لوگوں کے ساتھ بھی اپنی مرضی کے خلاف چلا ہے
اکثررشتے نبھانے نبھاتے سانس اُکڑ جاتے دیکھا ہے مگر پیچھے نہیں ہٹا
اپنی جوانی کو بڑھاپے کی نذر کرنے کے باوجود شوخ طبع ہے،بلکہ حُسن کا طابع ہے جمالیات کا چاری ہے،ظفرمعراج کے بارے میں لکھنے کے لئے سوچتے ہوئے
بہت ساری باتیں ذہن میں گڈمڈ ہورہیں تھیں کافی باتوں کوسوچتے ہوئے فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ بات کہاں سے آغاز کروں۔۔۔۔۔تعلق اور دوستی کے ساتھ کے اس طویل تخلیقی سفر کوکس مختلف اور منفرد انداز سے آپ تک پہنچاؤں اندر باہر کی باتوں کو سوچتے ہوئے۔۔۔۔رُک جاتا۔۔۔۔قلم چھوڑ دیتا۔۔۔۔پھر خیال آتا ہمارے تعلق اور راز و نیاز کے علاوہ بھی توظفرمعراج ایک مشہور و معروف ڈرامہ نگار ،شاعر اور دانشور ہے اُس کی تعریفیں کرتے ہوئے اُس کے مقبول اور پراثر ڈراموں کا حوالہ دے کر ظفرمراج کو ایک بلند پایہ ڈرامہ نگار ثابت کروں اُس کی گہرائی اور گیرائی سے سامنے آنے والی سوچ اور منفرد آئیڈیاز پر داد دیتے ہوئے بات ختم کروں،ڈرامہ سیریل سفر سے کابلی پلاؤ تک ظفری کی قلم کی روانی ئے شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے والے اپنے خطے کے نمائندہ لکھاری کو داد دوں
ایک ٹیکنیکل کالج میں لیکچرر سے پرنسپل بننے اور محنتی اُستاد کا کردار ادا کرنے والے بندے کا تحسین اور تسکین پانے والے پروفیسرظفرمعراج کا ذکر کروں !
آئے روز ایک نئی محبت میں گرفتار ہونے والے اپنے یارِ غار کا ذکر کروں جو اپنی محبتوں اور ان کی کامیابیوں اور نا کامیوں کا مجھ سے ذکر کرنے والے راز داں کا حوالہ دوں،بہرحال مجھے کہیں سے تو بات شروع کرنی ہے ظفر معراج کا خاکہ کھینچنا ہے،
مجھے یاد پڑتا ہے نامور شاعر اور دانشور سرور جاوید میگزین سیکشن میں اپنے ایک نوجوان لکھاری ظفرمعراج کا ذکر کرتے،ایک شام یہ نوجوان کچھ دانشورانہ انداز سے آنکھوں میں ایک اُداسی کی لہر لئے ادبی صفحے میں اشاعت کے لئے اپناتازہ افسانہ لاتے ہیں،خوب صورت اور تازہ کار افسانہ نگاربہت کم بولتا اور ذیادہ دیر سُنتا رہا ۔۔۔۔ظفر نے اپنی پہلی تحریر سے چونکادیا تھا۔۔۔۔یہ افسانہ ایک ذہین طالب علم کے قتل کے پس منظر میں لکھاتھا۔۔۔،اس اردو افسانے کی اشاعت کے بعدظفر براہوئی زبان میں بھی لکھنے لگا اب ہمارے درمیان آئے روز کسی علمی ادبی موضوع اور کتابوں کے مطالعے پر محفل جمنے لگی،جن میں جدید ادب کے تخلیق کار ڈاکٹر تاج رئیسانی ،وحید زہیر،خادم لہڑی ڈاکٹر منیر رئیسانی ڈاکٹر بیرم غوری سرورجاوید اور دیگر نوجوان شامل تھے،اب ہماری محفلیں ،ہوٹلوں سے ہو کرآرٹس کونسل اور یونیورسٹی تک پھیل گئیں تھی عبداللہ جان جمالدینی پروفیسر نادر قمبرانی ،ڈاکٹر فاروق احمد،خادم میرا اورعین سلام جیسے بڑے بڑے دانشوروں کی قربت اور دوستی نے لکھنے پڑھنے اور سوچنے کے عمل کو ایک ذمہ داری کے احساس اور جنون کے ساتھ آگے بڑھانے کے راستے دکھائے ،
ظفر معراج کا سب سے بڑا موضوع زمین سے محبت اور کلچر کی آزمائش ہے،اس کا لہجہ،انداز طرز اظہارسچااور کھرا ہے،وہ اپنی سرزمین کے خدوخال اور مسائل کو سکرین پر لاتے ہوئے سرخوشی کا اظہار کرتا ہے
ڈرامہ نگاری کے شعبے میں دلچسی رکھتے ہوئے ظفر ٹیلی وژن کو ذیادہ وقت دینے لگاکوئٹہ ٹیلی ویژن سنٹرمیں ظفری کی ایک اچھی ٹیم بن گئی جس میں حسام قاضی، عطا اللہ بلوچ،فاروق مینگل،عبداللہ بادینی،جیئند جمالدینی،آفتاب جبل،ظاہر لہڑی،ڈاکٹرشرجیل اوردوسرے کئی دوست مل کر خوب صورت اور منفرد آئیڈیاز پر کام کرنے لگے،مجھے یاد پڑتا ہے
اس دور میں ظفر نے اداکاری کے جوہر بھی دکھائے اور کامیاب کمپئیرنگ بھی کی،صبح کالج جاکرطلبا کی کلاسیں اور شام کو ٹی وی ڈرامہ کی تگ ودو نے ظفر کو ادبی محفلوں اور تقریبات سے دور کردیا،اب محبتیں اور ڈرامہ ساتھ ساتھ چلنے لگے
ڈراموں کی ڈیمانڈ بڑھنے لگی چاہنے والوں کے تقاضے بھی اپنا رنگ دکھانے لگے،
شہرت کی کہانی بھی عجیب ہے اس کو برقرار رکھنے اور آگے بڑھنے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔۔۔۔شہرت ملتے ملتے بہت کچھ اپنے ساتھ لےجاتا ہے،
ظفرمعراج چونکہ میانہ روی کا مزاج رکھتا ہے اس لئے اُس نے بہت ساری چیزوں کو برقرار رکھا۔۔۔اور اب تک کامیاب دکھائی دیتا ہے،
میں کبھی کبھی بہت ساری گفتگُو کے بعد جب کسی بھی معاملے اورموضوع سارے پہلوؤں پر بات کرتے کرتے تھک جاتے ہیں تو میں ظفر سے بےساختہ سوال کرتا ہوں
جانان، یہ بتاؤ بڑے ہوکر کیا بنوگے
ظفر کے چہرے پر مسکان اور آنکھوں میں چمک سی پیدا ہوتی ہے وہ بڑے نرم لہجے کے سُروں میں کہتا،
،،مراد بڑا تو ہونے دو۔۔۔پھر سوچیں گے!!!،،
بے ساختہ قہقہوں کے درمیان اداسی اور گھُٹن میں دراڑ سی پڑ جاتی ہے،۔۔۔،
دوسرے لمحے ظفرمعراج اپنے خول سے نکلتا ہے،گھڑی کو ۔۔۔۔پھر مجھے اور پھر اپنی گاڑی کی طرف دیکھنے لگتا ہے،
میں اور کچھ نہیں کہتا صرف اتنا کہہ کرظفر کے چند لمحے چُراتا ہوں
یار۔۔۔۔۔ایک سگریٹ پی لیتے ہیں۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔اوربس
ظفر کچھ نہیں کہتا ٹیک لگا کر دھویں کے مرغولوں کو دیکھنے لگتا ہے