کراچی/بلوچستان: پاکستان میں پہلی بار ایک سماعت اور گویائی سے محروم طالبہ نے اپنے والد کو جگر عطیہ کرکے انسانیت، محبت اور قربانی کی ایسی مثال قائم کردی جس نے ہر آنکھ نم کردی۔
بلوچستان کے علاقے چوکی جمالی سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ دعا جمالی نے اپنے والد منصور خان جمالی کو جگر عطیہ کیا، جس کے بعد 20 مئی 2026 کو گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں کامیاب لیور ٹرانسپلانٹ انجام پایا۔ دعا جمالی پاکستان کی پہلی نان اسپیکنگ اور ڈیف لیور ڈونر بن گئی ہیں۔ وہ جماعت دہم کی طالبہ ہیں اور اپنی جسمانی معذوری کو کبھی بھی کمزوری نہیں بننے دیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق منصور خان جمالی کافی عرصے سے جگر کے مرض میں مبتلا تھے۔ دعا کے ماموں سید عاطف علی، جو فلم ڈائریکٹر اور رائٹر بھی ہیں، نے بتایا کہ گزشتہ برس تفصیلی معائنہ کے بعد معلوم ہوا کہ منصور خان کا جگر شدید متاثر ہوچکا ہے اور فوری ٹرانسپلانٹ ناگزیر ہے۔ موزوں ڈونر کی تلاش مشکل تھی، اسی دوران دعا نے خود والد کو جگر عطیہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
تمام طبی معائنے مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹروں نے دعا کو موزوں ڈونر قرار دیا، جس کے بعد کامیاب آپریشن کیا گیا۔ سید عاطف علی نے کہا کہ میری بھانجی کی قربانی اور حوصلے نے انسانیت کی نئی مثال قائم کردی ہے۔ الحمدللہ، دعا اور ان کے والد دونوں خیریت سے ہیں اور صحت یاب ہورہے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک کامیاب لیور ٹرانسپلانٹ نہیں بلکہ پاکستان کی طبی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ بھی ہے۔ دعا جمالی کی جرات اور والد سے محبت نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے ملک کے لیے امید، حوصلے اور ایثار کا پیغام دیا ہے۔