سندھ بجٹ اپوزیشن کا بائیکاٹ

عرفان علی عرفان علی

سندھ بجٹ اپوزیشن کا بائیکاٹ

حکومتی ار کان نے  ملکی اورعالمی صورتحال کے تناظر میں سندھ کے نئے بجٹ  کی تیاری کو مشکل مرحلہ   قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں ترقیاتی بجٹ میں کمی سخت فیصلہ تھا۔

حکومت نےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ جبکہ تعلیم اورصحت کے لئےبجٹ میں خاطر خواہ  فنڈزمختص کیےہیں۔

حکومتی اراکین نےسندھ  کے نئے  بجٹ پرتبصرہ کرتےہوئےکہا ہے کہ وفاق کی جانب سےبڑی کٹوتیوں کےبعد صوبائی بجٹ میں بھی کمی کی گئی ہے۔ترقیاتی بجٹ میں اربوں روپے کی کمی مجبوری تھی ۔۔


سعدیہ جاوید،ترجمان سندھ حکومت کہتی ہےکہ دوسو ارب  کی کٹوتی ہوئی ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے لیکن ظاہر سی بات ہے سٹریٹیجکلی ا اس وقت جو حالات تھے ریجن کے جنگ کے حالات ہیں ا تو ہر صوبے میں کٹوتی کی ہے تو ہم نے بھی اپنے حصے سے کٹوتی دی ہے

 

سمیتا افضال، رکن سندھ اسمبلی نے کہاکہ  ہماری کوشش یہی ہوگی کہ ا ہم ڈیویلپمنٹ کریں لیکن جو سچویشن ہے اس کے لحاظ سے ہمیں اپنے پہلے جو پراجیکٹس ہیں جو کمپلیشن کے اس میں ہیں ہم ان کو کمپلیٹ کر سکیں اور پھر اس کے بعد ہم ان سکیموں کو دیکھیں

وزیرجامعات اینڈ بورڈز کا کہنا ہے کہ   ایچ ای  سی سندھ کےبجٹ میں 9 سال بعد اضافہ کیا گیا جوکم ہے۔کم سےکم آمدنی کا تعین بھی بجٹ میں کم کیا گیا ہے۔ کچھ حکومتی ارکان  نے  بجٹ پر تنقید بھی کی۔

اسماعیل راہو،، وزیرجامعات اینڈ بورڈزنے کہاکہ اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا جبکہ سندھ مسلسل اپنی یونیورسٹیز کی ریکرنگ گرانٹ کے لیے اضافہ کر رہا ہے اور اس کو ہم نے برقرار رکھا ہے

حنادستگیر، رکن سندھ اسمبلی نے کہا کہ پبلکلی یہ ظاہری صورت نہیں کرے گا لوگوں کے خرچے رہیں

اپوزیشن جماعتوں کےشورشرابہ اوراحتجاج کےباوجودوزیراعلی سندھ نے نئے مالی سال  کا  بجٹ پیش کردیا۔


سندھ اسمبلی میں صوبائی مالیاتی بجٹ پیش کردیا گیا۔ اپوزیشن جماعتوں ایم کیوایم پاکستان،جماعت اسلامی اور آزاد ارکان   بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے ایوان سے  واک آوٹ کرگئے۔

سندھ اسمبلی میں   مالی  سال   دوہزار  چھبیس، ستائیس  کا  بجٹ پیش کردیا گیا۔اپوزیشن جماعتوں نےپری بجٹ اجلاس میں مدعونہ کرنےپرشدیداحتجاج کیا،، جس پر وزیراعلی سندھ کوبجٹ تقریر روکنا پڑی ۔

احتجاج کےسبب بجٹ تقریرتاخیرکا شکارہوئی۔ پھراحتجاجااپوزیشن جماعتیں واک آؤٹ کرگئیں۔

علی خورشیدی، اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ قواعد و ضوابط کے مطابق سندھ اسمبلی کے پری بجٹ کا پرا سوشل ہونا چاہیے تھا بدقسمتی کے ساتھ اس سال نہیں ہو سکا بدقسمتی کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے جمہوریت کا پاس نہ رکھتے ہوئے ون وے ٹریفک بجٹ پیش کیا ہے جس کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں

بائیکاٹ میں شریک جماعت اسلامی اور آزاد ارکان  کا کہنا تھا  پرانےمنصوبےتعطل کا شکارہیں۔ہ بجٹ کی تیاری کے دوران  مشاورت کےلئے انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔

شبیرخان ، آزاد  رکن   نے کہاکہ اپوزیشن کو نہ یہ ان بورڈ لیتے ہیں اور وہاں اس اپوزیشن کو ان نمائندوں کو جو اس شہر کا اس صوبے کے بجٹ کے اندر جن کا حصہ 95 فیصد ہے اس لیے یہ اشرافیہ کا بجٹ یہ منسٹروں کا یہ بابوں کا بجٹ ہے

فاروق احمد،  رکن جماعت اسلامی نے کہاکہ تقاریر کی صورت میں ہم ان کو ان کا ضرور دکھائیں گے کہ ان شیخ کراچی کے اندر سندھ کے اندر جو انہوں نے انجام دیے ہیں ان کی عملی شکل کیا ہے تو اس میں انشاءاللہ ہم ا جو پانچ دن ہیں اس سے جو اپوزیشن ہم تپن دیں گے اور ان کو شہر بلکہ ان کا چہرہ عوام کو دکھائیں گے

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہےکہ نہ صرف  بجٹ پر  بحث میں شرکت کریں گےبلکہ حکومت کوٹف ٹائم بھی دیا جائے گا۔

سندھ کے نئے  مالیاتی بجٹ میں کراچی کے لئے کسی نئے  ترقیاتی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا ۔۔ پرانے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنے کے  لئے ایک سو آٹھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نئے مالی سال کے دوران کن منصوبوں کی تکمیل کے لئے کتنی رقم رکھی گئی ہے

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے  مالی سال دوہزار چھبیس، ستائیس کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا   کہ  کراچی  کے 822 منصوبوں کے  لئے ایک سو آٹھ ارب سے زائد روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ایئرپورٹ روڈ سے اسٹار گیٹ تک نئے فلائی اوور کی تعمیر کے ایک ارب، بیس کروڑ  ارب روپے ،ملیر ہالٹ سے شارع فیصل تک رائٹ ٹرن انڈر پاس کے  لئے ڈیڑھ  ارب اور گجر نالہ پر سر شاہ سلیمان روڈ کراسنگ فلائی اوور کے لئے ایک ارب  پینسٹھ کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

بجٹ میں  سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پروگرام کے لیے 9 ارب روپے سے زائد   اورکراچی میں 6 جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز کے  لئے ایک سو چھیاسٹھ  کروڑ روپے  رکھے گئے ہیں۔جام چاکرو اور گوند پاس لینڈ فل سائٹس کی اپ گریڈیشن کے لیے 118 کروڑ روپے رکھنے کی تجویزہے۔   حکومت نے ضلع شرقی اور وسطی کے واٹر پمپنگ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب روپے اور   کے فور منصوبے سے منسلک پانی فراہمی نظام کی توسیع کے لیے 57 کروڑ 52 لاکھ روپے رکھے  ہیں۔

سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال کراچی کے لیے   ایک ارب روپے  اور این آئی سی وی ڈی کراچی میں بچوں کے امراضِ قلب یونٹ کے  لئے ایک ارب چالیس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ شہید بے نظیر آباد ٹراما سینٹر کےلئے بھی  چار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔ کے ایم سی کے محکمہ فائر بریگیڈ کی اپ گریڈیشن کے لیے تین ارب آٹھ کروڑ رکھنے کی تجویز ہے۔ نئے مالیاتی بجٹ میں شہر  میں زیر تعمیر بی آر ٹی یلو لائن  کوریڈور کے  لئے تین ارب، پچاس کروڑ  روپے  اورریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے  لئے  تیرہ ارب، بیس کروڑ  روپے مختص کئے گئے ہیں

نئے بجٹ میں لیاری ٹرانسفارمیشن پیکیج کے  لئے چار ارب، سینتیس کروڑ  ارب روپے مختص ہیں۔بلاول بھٹو انجینئرنگ کالج  لیار ی کے منصوبے کی خاطر  184 کروڑ روپےاور شہید ذوالفقار علی بھٹو لا یونیورسٹی کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔کراچی میں صوبائی سول سروسز اکیڈمی کے قیام کے لیے 1 ارب روپے جبکہ کاروباری مراکز اور مارکیٹوں کی بہتری کے لیے 26 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔