کراچی میر رضا علی کیس ۔ پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14اہم سنگین خامیوں کاانکشاف کردیا

عمران عمران

کراچی میر رضا علی کیس ۔ پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14اہم سنگین خامیوں کاانکشاف کردیا

کراچی میر رضا علی کیس ۔ پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 14اہم سنگین خامیوں کاانکشاف کردیا  ۔ ڈاکٹرسمعیہ سید کا ایس ایس پی ایسٹ کولکھاگیاخط سامنے آگیا ۔ خط میں کہا گیا ۔ انٹری زخم پر موجود بارود کے نشانات کا کیمیکل تجزیہ نہیں کیا گیا ۔ کھوپڑی اور گردن کا اندرونی معائنہ بھی نہیں کیا گیا ۔ زخموں کی پیمائش  کے لئے اسکیل استعمال کیا گیا نہ ہی فرانزک معیار کے مطابق تصاویر لی گئیں ۔


پولیس سرجن ڈاکٹرسمعیہ سید نے 3 اگست کو ایس ایس پی ایسٹ کو خط لکھ کر میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم میں سنگین خامیوں کے حوالےسے آگاہ کیا تھا  ۔ خط کے مطابق لاش کے ایکسرے اور گن پاوڈر کے لیے ہاتھوں کے نمونے بھی حاصل نہیں کیے گئے ۔ ڈاکٹر سمعیہ سید کے لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا انٹری اور ایگزٹ زخموں کی ہڈیوں کے نشانات کے مطابق وضاحت موجود نہیں ۔ گولی کے راستے کی بھی تشریح نہیں کی گئی ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انٹری زخم کا سائز ایگزٹ زخم سے نمایاں بڑا درج ہے ۔ انٹری ایگزٹ زخم کی  دوبارہ جانچ اور تصدیق ضروری تھی ۔ کپڑوں پر سوراخ  کی سمت، جسم کے مختلف حصوں کی حالت واضح نہیں ۔ لاش کے  ڈی کمپوزیشن کی نوعیت بھی واضح نہیں کی گئی ۔ چہرہ ناقابل شناخت ہونے کے باوجود شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے سیمپل حاصل نہیں کیا گیا ۔ پولیس سرجن کے خط میں موقف اپنایا گیا پوسٹ مارٹم رپورٹ جواب دینے کے بجائے مزید سوالات کھڑے کر رہی ہے ۔ حساس نوعیت کے کیس کے تمام پہلوؤں کی منطقی جانچ ضروری ہے ۔ زخموں کی واضح تصاویر بھی موجود نہیں ہیں ۔ 

سندھ پولیس کے متعلقہ افسران سے کئی بار گروپ اور نجی واٹس ایپ پر رابطہ کی کوشش کی ، کوئی جواب موصول نہیں ہوا