کراچی،عرفان علی
کراچی،ڈیفنس خیابان بخاری پر ساڑھے تین سال قبل
گولیاں چلیں۔ اے سی ایل سی اہلکاروں کی فائرنگ سے انیس سالہ
انتظار احمد جان کی بازی ہار گیا۔ انتظار گھر ہی نہیں پورے
خاندان کا چہیتا تھا۔ وہ بیرون ملک
سے ڈگری لینے کے بعد بڑا بزنس مین
بننا چاہتا تھا،،،،لیکن یہ خواب
ادھورا ہی رہ گیا۔
اشتیاق احمد نے 13 جنوری 2018 کو اپنا لاڈلہ بیٹا کھودیا۔19 سالہ انتظار
احمد خاندان کا واحد چشم
چراغ تھا۔ اشتیاق احمد کے تین بھائی اور ایک
بہن تھی جو غیر شادی شدہ تھے ۔اس لئے
انتظار گھر والوں ہی نہیں پورے خاندان کا
چہیتا تھا۔اس کی والدہ یہ ناگہانی
سانحہ دیکھنے سے پہلے ہی 2015
میں انتقال کرچکی تھی جبکہ پھوپھی
یہ غم لئے رواں سال پچیس مارچ کو دنیا ئےفانی سے کوچ کرگئیں۔
انتظار احمد نے ابتدائی سے اے لیول تک کراچی میں تعلیم حاصل کی۔نومبر
2016 میں ملیشیا کی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہ نومبر 2017 میں چھٹیاں گزارنے پاکستان آیا تھا۔ انتظار کی خواہش تھی کہ وہ
بڑا بزنس مین بنے اور ہم بھی یہی چاہتے تھے ۔
انتظار کے والد
کہتے ہیں قانون پر
موثر عملدرآمد ہو تو کوئی والدین اس طر ح اپنا بیٹا نہیں کھوئیں گے۔