کراچی،عرفان علی
کراچی
میں انتظار احمد کے والدین کے انتظار کی
گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں ۔ ڈیفنس میں اے سی ایل سی
اہلکاروں کے ہاتھوں مبینہ منصوبہ
بندی کے تحت قتل نوجوان کے کیس کا فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان ہے۔ کیس میں
کب کیا ہوا
کراچی
ڈیفنس کے علاقے خیابان اتحاد میں 13 جنوری 2018 کی شب کو اے سی ایل سی اہلکاروں
نے ایک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا ،، اور
نہ رکنے پر فائرنگ کردی، جس سے 19 سالہ
نوجوان انتظار احمد جاں بحق ہوگیا تھا۔ابتدائی طور پر پولیس نے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا اور
درخشاں تھانے میں مقدمہ درج کرلیا۔
14جنوری 2018 کو کیس میں 8 اے سی ایل سی اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا جس
میں 2 انسپکٹر، 2 ہیڈ کانسٹیبلز اور 2 افسران بھی شامل تھے۔ انتظار احمد کی پوسٹ
مارٹم رپورٹ سامنے آئی،، تو پتا چلا کہ نوجوان کی ہلاکت ایک گولی لگنے سے
ہوئی تھی۔ اے سی ایل سی اہلکاروں نے
انتظار پر 17 سے زائد گولیاں چلائیں جبکہ مقتول انتظار کو سیدھے کان کے پیچھے ایک
گولی لگی جو اس کے سر سے آر پار ہوگئی تھی جس کے بعد وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا
تھا۔
مقامی
عدالت نے کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس
انسداد دہشت گردی عدالت منتقل کردیا ۔ اینٹی کار لفٹنگ سیل کے ایس ایچ او طارق
محمود سمیت 8 اہلکاروں پر ابتدائی طور پر قتل کی فرد جرم عائد کی گئی
تھی۔ واقعہ کی عینی شاہد مدیحہ کیانی ایک سال بعد
عدالت میں پیش ہوئیں اور ملزمان کی شناخت کرنے میں ناکام رہی۔ ملزموں
نے سندھ ہائی کورٹ میں 5 پانچ بار درخواست ضمانت دائر کی جو مسترد کردی گئی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے 30 جولائی، 16 اگست اور 30 اگست کو محفوظ فیصلہ سنانے کی تاریخ دی ،،،لیکن فیصلہ موخر کردیا گیا۔ اب عدالت کی جانب سےآج فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے۔