ملک کے پسماندہ علاقوں میں آنکھوں کے آپریشن اور معائنے کی سہولت پہنچانے والی متحرک بس کو بریک لگ گیا۔
کراچی کے اسپینسر آئی اسپتال کو 1984 میں اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق کی جانب سے دی گئی آئی کیمپ
بس تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ چلتی پھرتی
بس نے کباڑ کی شکل کیسے اختیار کی۔
شہر شہرچلتے
پھرتے آنکھوں کا معائنہ اور آپریشن کی سہولت ۔ جی
ہاں یہ بس کبھی ان کاموں کے لئے استعمال ہوتی تھی۔لیکن آج یہ کاڑ کباڑ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔
یہ بس 1984 سے 2005 تک موبائل آئی کیمپ ہوا کرتی تھی،،
جس میں آنکھوں کےچھوٹے بڑے آپریشن ہوا کرتے تھے۔ بس کے ایک حصہ میں ریفلیکشن
ٹیسٹ کی مشین نصب تھی جس سے آنکھوں کے ٹیسٹ کئے جاتے تھے۔ یہ آئی کیمپ بس کراچی ،
اندرون سندھ اور کشمیر تک پسماندہ علاقوں
میں شہریوں کو سہولیات فراہم کرتی تھی۔
اسپینسر آئی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے یہ بس ملک کے دیہی اور پسماندہ علاقوں کے شہریوں کو آنکھوں کے تمام امراض کے علاج کی سہولیات دینے کیلئے بنائی گئی تھی،، لیکن 2015 سے فیول سے محروم اور خراب کھڑی ہے۔
کے ایم سی کے
ماتحت چلنے والے آنکھوں کے سب سے بڑی سرکاری اسپتال میں جہاں دیگر بنیادی سہولیات
کا فقدان ہے وہی یہ کارآمد آئی کیمپ بس غیر فعال اور تباہی کے دہانے پر
پہنچ گئی ہے۔