کراچی میمن گوٹھ میں ہونے والے ناظم جوکھیو قتل کیس میں نیا موڑ

عرفان علی عرفان علی

کراچی  میمن گوٹھ میں ہونے والے ناظم جوکھیو قتل کیس میں نیا موڑ

کراچی  میمن گوٹھ میں ہونے والے ناظم جوکھیو قتل کیس میں نیا موڑ آگیا۔ ۔۔تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ مقتول   نے جس گاڑی کی ویڈیو بنائی تھی  اس میں غیر ملکی افراد نہیں  بلکہ محکمہ وائلڈ لائف سے وابستہ  سرکاری افسران سوارتھے ،پولیس کی تحقیقاتی ٹیم نے وائلڈ لائف ٹیم کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کرلیا

کراچی ملیر میمن گوٹھ میں بااثر افراد کے مبینہ تشدد سے ہلاک نوجوان ناظم جوکھیو قتل کیس کی تحقیقا ت میں سامنے آیا ہے کہ مقتول نے غیر ملکی نمبر پلیٹ کی حامل جس گاڑی کی ویڈیو بنائی  تھی اس میں غیر ملکی شکاری نہیں بلکہ محکمہ وائلڈ لائف کے افسران سوار تھے جو سروے کے لئے علاقے میں آئی تھی، پولیس ذرائع کے مطابق شکار  کے خواہشمند افراد نے محکمہ وائلڈ لائف  سے اجازت طلب کی تھی جس پر ٹیم پیشگی سروے کت لئے میمن گوٹھ مین موجود تھی۔۔۔پولیس کی تحقیقاتی ٹیم نے ویڈیو میں نظر آنے والے  وائلڈ لائف سے منسلک سرکاری افسران کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ویڈیو میں نظر آنے والے افراد  کو  طلب کرتے ہوئے  نوٹسز بھیج دئیے  گئے ہیں۔۔۔پولیس کے تفتیشی  ذرائع کا دعویٰ ہے کہ محکمہ جنگلی حیات نے ناظم جوکھیو قتل کیس کی  تحقیقاتی ٹیم کو شکار کا اجازت نامہ  بھی پیش کردیا ہے مگر وائلڈ لائف کے افسران کے بیانات قلبند ہونے پر صورتحال مزید واضح ہوسکے گی۔۔۔