تم کس کے ساتھ ہو؟
اعجاز منگی
موسیقی میں کاپی رائٹ
کا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا
جب موسیقی کو ایک
انڈسٹری بنایا گیا!!
اس سے قبل موسیقی جنس
بن کر نہیں بکتی تھی!!
موسیقی تو مقدس صداؤں کی
بازگشت ہوا کرتی تھی
سرمائیداری سسٹم نے
موسیقی کو بھی بازاری بنا دیا
حالانکہ شاہ لطیف نے
صدیوں قبل سمجھایا تھا کہ
”موسیقی کی مت بیچو۔
موسیقی کو کاروبار مت بناؤ“
گاؤ اور اس طرح گاؤ جس
طرح درختوں کو ساز بنا کر
چنچل ہوا گاتی ہے اور
فطرت کے کنسرٹ میں
سارے پرندوں کو ساتھ
ملاتی ہے اور چھاجاتی ہے!!
نرملا مانگھنی تھر کی
گرم ہوا کا اداس جھونکہ ہے
اس کی آواز میں
کارونجھر پہاڑ کے موروں کی صدا ہے
اس فنکار بچی کی روح
میں ایک ساز بجتا ہے
وہ اس ساز پر گاتی ہے؛
دھنیں بناتی ہے
اپنے سروں میں آپ
کھوجاتی ہے
اور وینا پر سر رکھ کر
سپنوں میں کھوجاتی ہے
کوک اسٹوڈیو کی منزل
نہیں تھی
وہ تو ایک سیڑھی تھی جس
پر پاؤں رکھ کر
وہ دنیا کو اپنا سنگیت
سنانا چاہتی تھی
مگر اس کو معلوم نہ تھا
کہ وہ سیڑھی
سونے کی ہے اور نرودا
کا سفر
ریت پر ننگے پیروں کا
سفر ہے
سروں کی سرمائیدار دنیا
نے
اس کی دھن لوٹ کر آرٹسٹ
لڑکی کو
اس طرح ٹھکرا دیا جس
طرح
دولت والے دل کے جذبات
کو ٹھکراتے ہیں
ہر تخلیق تخلیقار کی
اولاد ہوا کرتی ہے
جس طرح کسی غریب ماں کے
بچے کو
ایک امیر مہنگے کپڑے
پہنا کر کہے
”یہ بچہ میرا ہے“
ویسے ہی نرملا مانگھنی
کی دھن پر
کوک اسٹوڈیو نے ڈاکہ
ڈالا ہے
اور میں اس ساتھ ملایا
ہے اس نے
نصیبو لال اور ہماری
عابدہ پروین کو
بقول محمد حنیف”عابدہ
پروین ملنگوں کی ملکہ ہے“
اس ملکہ موسیقی کو بھی
انصاف کرنا ہوگا
اور کوک اسٹوڈیو کی بھی
ڈرنا ہوگا
فن پر فدا ہونے والوں
سے
کوک اسٹوڈیو کاروبار ہے
نرملا مانگھنی ایک
فنکار ہے
تاریخ پوچھتی ہے
تم کس کے ساتھ ہو؟
کاروبار کے ساتھ
یا
فنکار کے ساتھ؟؟