دراز قد ، چہرے پرشرارتی مسکراہٹ سجائے ، گھیر والی شلوار اور بلوچی چپل پہنے، اپنے سیاہ گھنے بالوں کے ساتھ کسی فلم کے ہیرو کے طرح سلو موشن میں وہ مجھے آج بھی پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر کے مین گیٹ کے اندر اپنے گاڑی میں داخل ہوتا دیکھائی دے رہاہے۔
گاڑی پارک کرنےکے بعد سب سے اپنے پرجوش اور محبتوں بھرے انداز سے ایسے ملنا جیسے مدتوں بعد ملاقات ہوئی ہو۔ مسکراہٹیں ہنسی قہقہوں کی آوازیں ابھی تک پی ٹی وی کوئٹہ میں گونج رہی ہیں۔وقت کی تمام ساعتیں ابھی ٹہری ہوئی ہیں۔ابھی رفیق واپس لوٹ کر آئےگا،آج پھر کسی نئے کردار میں اپنی صلاحتیوں کے جوہر دیکھائے گا، لائٹ ، کیمرہ ایکشن کے بعد وہ اپنے کردار میں جلوہ گر ہوگا لیکن اب لائٹ بھی ہے کیمرہ بھی ہے لیکن وہ ایکشن نہیں جس کے ریکشن میں لوگ ہنستے روتے تھے، وقت بےرحم ہے ظالم ہے یہ کسی بھی لمحے ہم سے کسی کو بھی چھین سکتاہے اور پھر بس ہمارے دلوں میں ٹھنڈی آہیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں بچتا اور پرانی باتیں اور یادیں اثاثہ حیات بنکر رہ جاتی ہیں۔
آفس پہنچ کر فیس بک لوگ ان کیا تو اے ڈی بلوچ صاحب کی وال پر دعا کی درخواست تھی سرسری نظر پڑی میں نے پڑھا کچھ نہیں فیس بک آن رہا میں فون پر کسی سے بات کرنے لگا جیسے ہی فون ریسیور نیچے رکھا تو ایک دم ٹیکسٹ پر نظر پڑی کہ وہ ہم میں نہیں رہے اور دعائوں کی اپیل درخواست ۔
ہم سب نے لوٹ کر چلے جاناہے وقتی طور پر اس
دنیا میں رہ کر ہم اختلاف اور آپس میں انتہائی شدت کے رویے رکھتے ہیں جو سوائے
اپنے اور دوسرے کی تکلیف کےسبب کےعلاوہ کچھ نہیں آخر میں حقیقت وہی مٹی ہے جو
ہماری ماں بھی ہے اور مرنے کے بعد ہمارا لباس بھی ۔
رفیق نوتکانی ایک بہترین آرٹسٹ تھے،انتہائی
ملنسار انسان ، پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر کے کئی اردو، بلوچی براہوئی ڈراموں میں انہوں
نے کام کیا انکے کئے گئے کام کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا۔
پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر کےسینئرادکار، گلوگار، میوزک کمپوزر، رائٹر،
ہدایت کار، فوٹوگرافر ، کیمرہ مین پروڈیوسر سب ہی غم سے نڈھال ہے۔ اے ڈی بلوچ ،
عمر فاروق، عطاء اللہ بلوچ ، سجاد احمد ،اطہر منگی ،معاذاللہ جمالدینی ،ایوب بابئی ، آصف جہانگیر، افضل مراد، اسحاق لہڑی،جمال ترین، علی گلاب ،میر سلام جوگیزئی، جاوید جمال ، ایوب کھوسہ ،حمید بگٹی، شائستہ صنم سب ہی رفیق نوتکانی کے بچھڑنے پر افسردہ ہیں۔
بس ایک دن انسان چلا جاتاہے اور یادیں رہ جاتی
ہیں۔یادیں بھی ایسی جن کوسوچ کر سانسیں
اکھڑنے لگے کاش اس لمحے وہ ایک بار پھر لوٹ
آئے اس سے یہ بات کہوں گا اسے یہ پسند تھا اب یہ کام کرونگا لیکن بے رحم
وقت ایک بار ہاتھ سے نکل گیا تو پھر لوٹ کر نہیں آتا۔
سب سے محبتوں سے ملنا رفیق نوتکانی کا خاصہ تھا، رشتہ، دوستی ،تعلق اسے کو برقرار رکھنے کاہنر اسے بخوبی آتا تھا ۔ وہ اپنے کو مختلف کرداروں میں ایسے سمو لیتا تھا کہ جیسے دیکھ کر حقیقت کا گمان ہوتاتھا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کوئٹہ سینٹر بھی رفیق نوتکانی
کے غم میں اداس ہے،پی ٹی وی کے پروڈیوسر دوستوں کےدفتر کے وہ کمرے بھی آج عجیب منظر پیش کررہے ہیں جہاں
رفیق نوتکانی بیٹھ کر آرٹسٹوں کے حقوق کی بات کرتے اورپی ٹی وی کی صورتحال پر
اپنا تجزیہ دیتےتھے۔پی ٹی وی کی کینٹین تو اسی جگہ موجود ہے لیکن رفیق کے ہنسنے کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش
ہوگئی ہے۔سبزہ زار جہاں گرمیوں میں رات گئے تک مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتاتھا آج
ویران اور سنسان نظرآرہاہے۔ پی ٹی وی سے جڑے تمام ہنرمندآج اداس ہیں وادی کوئٹہ
سردی کے پڑائوں کے ساتھ غم کے خیموں میں منتقل ہوگئی ہے۔