اسحاق لہڑی مٹی سے محبت کرنے والا مجسمہ ساز


اسحاق لہڑی مٹی سے محبت کرنے والا مجسمہ ساز

کوئٹہ ،عرفان علی

 فنون لطیفہ کے حوالے سے بلوچستان کی دھرتی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے.

اس کی یہ پہچان اسکے کے لوگوں کی فطری صلاحیتوں اور اپنی مٹی سے بے شمار محبت کی وجہ سے ہے ۔





مٹی سے پیار کرنے والا ،مٹی میں اپنے احساس سمو کر تخلیق کی بلندیوں کو چھونے والاایک شخص ایک مجسمہ ساز اسحاق لہڑی بھی ہے.

دہیمہ لہجہ، رک رک کر بات کرنا ، کسی بھی منظر کو ایک جھلک دیکھ کرذرا رک کر اپنی سوچوں میں سموکر تخلیق کے نئے زاویوں میں اظہار کے نئے دریچوں کو کھولتا اسحاق کا انداز ہی انہیں سب سے ممتاز رکھتاہے۔



 اسحاق بیک وقت ایک بہترین مصور، سیٹ ڈیزائنز، شارٹ فلم ڈائریکٹر، شاعر ، مجسمہ ساز اور ان سے کہیں  بڑھ کر ایک بہترین انسان دوست ہے۔




جس کا مذہب انسانیت کی خدمت کرنا ہے یا پھر ان لوگوں کے حوالے عوام کے سامنے لانا ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ کھوہ کر ہی انسانیت کو اپنا مذہب جانا۔




 

اسحاق لہڑی:  میرا بچپن عام بچوں کی طرح تھا بس فرق یہ تھا کہ میرے کھلونے میں خود بناتاتھا۔مٹی سے۔ٹین کے ڈبے کاٹ کے۔یا پھر گھر میں ناکارہ چیزوں سے کھلونے بناتاتھا۔



مجھے 5 سال کی عمر میں جب سکول میں داخل کیا گیا تو پہلے دن استاد سے مار پڑی تب سے ایک خوف دل میں بیٹھ گیا۔اسکول سے ایک دہشت اور خوف کا تعلق رہا ہمیشہ۔کئی بار تعلیم کا سلسلہ ترک کرنے کا سوچا مگر پھر ہمت کی۔میرے لیئے سب سے خوفناک مضمون انگلش تھا۔ 1988 میں مستونگ سے میٹرک کی پھر ملازمت کی تلاش شروع۔مزدوری کی رکشہ چلایا اور ایف اے پرائیوٹ کیا اور پھر فائن آرٹس میں ایڈمشن لیا۔


اسحاق لہڑی: مجھے لگتا تھا کہ کبھی زندگی میں کامیاب نہیں ہو پائوں گا۔بلکہ ناکام ترین انسان ہونگا۔تعلیمی لحاظ سے میرا ریکارڈ کچھ زیادہ شاندار نہیں تھا بس ایک عام سا طالب علم۔بس ڈرائنگ اور پینٹنگ سے دلچسپی تھی۔

 


اسحاق لہڑی : میری زندگی کی پہلی کامیابی 1985 میں مجھے ملی

 

اسحاق لہڑی : میری زندگی کی پہلی کامیابی 1985 میں مجھے ملی۔جب انٹر سکول پینٹنگ کمپٹیشن میں پہلی پوزیشن لی۔اگلے دن جب سکول کی اسمبلی میں میری کامیابی کا اعلان ہوا تو پرنسپل نے سکول کی چھٹی کردی اس خوشی میں۔مجھے اپنی اہمیت کا تب احساس ہوا اور یہ وہ لمحہ تھا جسنے مجھے آرٹ کو شوق سے پروفیشن بنانے کی طرف راغب کردیا۔


اسحاق لہڑی : سیٹ ڈیزائنگ کا تعلق بیشک آرٹ سے ہے مگر وہ کام کافی مختلف ہے پینٹنگ اور مجسمہ سازی سے۔سیٹ ڈیزائنگ کا مستقبل تابناک ہے کیونکہ پرائیوٹ میڈیا کی وجہ سے ڈیزائنرز کو بہت سا کام ملتا ہے۔



میں نے 1985 سے پینٹنگ شروع کی پھر فائن آرٹس میں گریجویشن اور پھر پی ٹی وی سے منسلک ہوا۔پی ٹی وی نے آرٹسٹ بنانے میں تو خاص مدد نہیں کی بلکہ میں کافی حد تک اپنے کام سے دور ہوا۔


اسحاق لہڑی :  

پینٹنگ اور sculpture میرے بچپن سے میرے ساتھ جڑے تھے۔فلم میکنگ کا شوق ہی مجھے پی ٹی وی لایا۔میں نے بطور سیٹ ڈیزائنربہت سا کام کیا۔پھر شارٹ فلمز پروڈویس کی سماجی مسائل شروع سے میرا موضوع رہے ہیں



اسحاق لہڑی :جو میرا ذیادہ تر کام ہے وہ ثقافت پر ہے میں نے قافلے بنائے ہیں ، بلوچی گیدان پر کام کیاہے یہاں پر بسنے والوں کی بوند وباش، لباس اور روایات میرے کام کا عکاس ہے۔



اسحاق لہڑی :میری ایک خواہش تھی کہ میں عبدالستار ایدھی صاحب کا 120 فٹ کا اسکپچر بنائو، جب میں نے کام کا آغاز کیا تو ان دنوں کوئٹہ میں شدید سردی پڑ رہی تھی۔پھر ہمارے پاس اتنے وسائل بھی نہیں تھے جس جگہ یعنی ہال میں ہم کام کررہے تھے اس کو کسی طرح پورے ہال کو گرم رکھنا ایک مشکل مرحلہ تھا جو اس مٹی کے لیے بہتر ثابت ہو۔



اسحاق لہڑی :عبدالستار ایدھی  صاحب اسکپچر کے ساتھ میں نے حاصل بزنجو صاحب کابھی اسکپچر بنایا تھا۔دنیا میں جتنے بھی عظیم لوگ گزرے ہیں جنہوں نے انسانیت کے لیے کچھ کیا میری یہ خواہش ہے کہ میں ان سب کے اسپکچر بنائو۔جسے پاکستان میں ادیب رضوی ہیں ڈاکٹررتھ فائو نے جزام کے مریضوں کے لیے جو کچھ کیا تھا۔اس کے علاوہ مدرٹریسا میری پسندیدہ شخصیت ہیں ان پر بھی کام کرنے کا خواہش مند ہوں۔



اسحاق لہڑی :پچھلے سال بھی کورونا کی وجہ سے میں اپنا مجسمہ سازی کا کام نہیں کرسکا ،اس سال بھی کام کرنا چاہ رہا تھا لیکن گزشتہ ماہ میں مجھے خود کورونا ہوگیا تھا جس کے باعث کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ۔ایک ماہ تک میں بستر پررہا کافی تکلیف میں وقت گزرا لیکن ابھی دوبارہ کام کا باقاعدہ آغاز کرچکاہوں۔

مجھے بچپن سے ہی مجسمہ سازی کا شوق تھا ،جس میں پینٹنگز بھی شامل ہے۔ گھر میں جو بھی میرے پاس کلرز دستیاب ہوا کرتے تھے ان سے میں پینٹ کیا کرتا تھا ۔

اس کے علاوہ ہم سبی میں رہائش پذیر تھے تووہاں کی مٹی کی ایک خصوصیت یہ بھی ہےکہ وہ کافی چکنی ہوا کرتی  ہے میں بچپن سےاسی مٹی سے چھوٹے چھوٹے اسکپچر بنایا کرتاتھا ۔وہ شوق پھر آہستہ آہستہ بڑھتا گیا پھر  یوں  ہوا کہ 85 میں جب میں آٹھویں کلاس کا طالب علم  تھا اس زمانے میں ایک  انٹر اسکول کا ایک کمپیٹشن یعنی مقابلہ ہواہے اور اس مقابلے میں میں اول پوزیشن پرآیا ،اس کے بعد میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اب میں  مصور یعنی آرٹسٹ ہی بنو گا۔

 

زندگی میں جب بھی کوئی آپ کو کامیابی ملتی ہے تو وہ آپ کےلیے کئی راستے کھول دیتی ہے بس پھر کیا تھا میں کام کرتا رہا اور کامیابیاں ملتی رہی آج بھی وہی جنون اور شوق قائم ہے۔

 

اسحاق لہڑی :میرا تعلق مستونگ سے ہے مستونگ کوئٹہ کے قریب ایک شہر ہے میرے والد صاحب سبی میں نوکری کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے ہم وہاں رہائش پذیر تھے مستونگ میں ہم جب واپس بھی آئے تو کوئی استاد یا رہنمائی کرنے والا شخص نہیں تھا جورہنمائی کرے اپنے طور پر جو سمجھ آتا تھا کام کرتے رہتے ہیں پھر بلوچستان یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں یوں پھر زندگی کا سفر آگے بڑھتا چلا گیا ۔


اسحاق لہڑی :آپ کا تجربہ اہمیت رکھتاہے  اس خطے میں رہنے والے افراد کے قد ساڑھے پانچ فٹ یا چھ فٹ کے ہی ہوتے ہیں پھر ہمیں تصویر فراہم کی جاتی ہے پھر ہم کسی سے پوچھ  لیا کرتے ہیں ان کا قد کتنا تھا اس حساب سے اندازے کے مطابق مجسمہ بناتے ہیں۔

شخصیات کی جہاں تک بات ہو میں نے بہت کم شخصیات پر کام کیاہے۔ ایدھی صاحب میری پسندیدہ شخصیت تھے ان کا کام اور دوسروں کے درد کو وہ اپنا درد سمجھتے تھے بلکہ اگر ہم یوں کہے کہ وہ دوسرے کے لیے جیتے تھے جو میرے خیال میں اصل زندگی کا مقصد ہے ۔



اسحاق لہڑی :انسانوں کےلیے سوچنےوالے ہی  اصل ہیرو ہے اس لیے میں ان سے ذیادہ متاثر تھا اوران کا مجسمہ بنایا ۔



اسحاق لہڑی :فقیرو فقیرا میرے پسندیدہ مجسمہ سازہے جن کے لیے مشہور ہے کہ وہ مٹی سے احساسات گوندھنے والا مجسمہ ساز ہے۔

ذاتی طورپر فقیرو فقیرا  میرے غائبا استاد ہے میری مدد بھی اور رہنمائی بھی کرتے ہیں۔

 

اس کے علاوہ جو مجھے مجسمہ ساز  پسند ہے وہ مجسمہ ساز خورشید وسان ،منصورزبیری ، رابعہ زبیری ، شاہد سجاد ، سعید اختر بہترین مجسمہ ساز ہے اسماعیل گل جی ہیں  بہترین مجسمہ ساز ہے جمیل بلوچ  بہترین مجسمہ ساز ہے۔


بلوچستان یونیورسٹی میں اس وقت تین یونیورسٹیز فائن آرٹس کے ڈیپارٹمنٹ ہیں جمال شاہ اور فریال گوہر کی کوششوں سے پہلی بار بلوچستان یونیورسٹی میں فائن آرٹس کا شعبہ  اوپن کیا گیا تھا اس کے علاوہ مختلف گیلرز ہے۔

جہاں پر بچوں کو آرٹ کی تعلیم دی جاتی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں جن میں لاہور ہے ، انڈس ویلی ، گجرات میں ایک یونیورسٹی ہے ، کراچی اسکول آف آرٹس ہے بہترین ادارے ہیں جہاں پر مجسمہ سازی سیکھائی جاتی ہے۔


اسحاق لہڑی :مجسمہ سازی میں وسائل بہت اہمیت رکھتے ہیں جب تک بہترین وسائل نہ ہو اچھا کام کرنا نا ممکن ہوتاہےاسکپچر بنانے کےلیے بہترین مالی حالات کا ہونا ضروری ہے حکومت سطح پر بھی رہنمائی نہیں کی جاتی ہے پینٹنگز کو پھر بھی توجہ دی جاتی ہے پذیرائی حاصل ہےلیکن مجسمہ  سازی کو اب تک اپنایا نہیں گیا ،



اسحاق لہڑی :میری خواہش یہ بھی ہے کہ میرا ایک اپنا بہترین اسٹوڈیو ہو ، میں چاہ رہا تھا کہ یہاں کا کلچر تاریخ ، روایات ، مسافت کو مجسمہ سازی کے آرٹ کے ذریعے متعارف کرائو ، وسائل کی کمی کی وجہ سے آرٹ کا سفر رک جاتاہے۔ایدھی صاحب کا مجسمہ مکمل ہوگیا ہے جس کو بےحد پسند کیا جارہاہے۔


اسحاق لہڑی :کتابیں پڑھتا رہاہوں، ناول پڑھے ، تاریخی سے دلچسپی ہے ، ڈاکٹر مبارک علی ، سبط حسن ، عباس جلال پوری کو میں نے ہمیشہ شوق سے پڑھاہے  روایتی چیزوں سے ہٹ کر مطالعہ کرے سوچ خیال میں تبدیلی آئےگی۔