سندھ میں معمول سے کئی گنا زیادہ بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

سندھ میں  معمول سے کئی گنا زیادہ بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی۔

سندھ میں  معمول سے کئی گنا زیادہ بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی۔

مکانات،فصلوں اور انفرااسٹرکچر کی مد میں سولہ سو ارب    روپےسے زائد کا نقصان ہوا۔ امدادی ایجنسیوں اور غیرملکی سفارت کاروں  نے سندھ حکومت  کو  ہرممکن مدد کی یقین دہانی کرادی۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو کی صدارت میں سکھر ائرپورٹ پر  غیرملکی امدادی ایجنسیوں اورسفارکاروں کے ساتھ اجلاس ہوا۔

 وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بتایا کہ  سندھ میں مون سیزن کے دوران جولائی میں اوسط سے تین سو آٹھ فیصد اور اگست میں سات سو چوراسی فیصد زائد بارشیں ہوئیں۔

 گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کے سیلاب کے باعث ڈرینج سسٹم کام نہیں کر رہا۔  اس بار  سیلاب میں کچے اور پکے  دونوں علاقے  ڈوبے ہوئے ہیں۔

صوبے  میں  تین سو پینتیس ارب  روپے سے زائد کی فصلیں  تباہ اور سڑکوں پلو  ں سمیت انفرااسٹرکچر کو   آٹھ  سو ساٹھ ارب روپے  کا نقصان ہوا۔

 پندر ہ لاکھ گھر تباہ ہونے سے نقصان کا تخمینہ ساڑھے چارسو روپے ہے ۔

 وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ بارشوں اور سیلاب سے چوبیس اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔کپاس، گنا، چاول، پیاز، کھجور، ٹماٹر اور دیگر فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سندھ حکومت  کو اموات اور زخمیوں، گرنے والے گھر وں اور مرنے والے مویشیوں کا بھی معاوضہ دینا ہوگا۔

زرعی قرضہ معاف یا ایک سال کےلئے مؤخر اور اقساط میں کرنا ہوگا۔زرعی مشینری، کھاد، کیڑے مار ادویات اور بیج پر سبسڈی دینا ہوگی۔

سندھ کو دس لاکھ خیمے، تیس لاکھ مچھردانیاں، بیس لاکھ  راشن بیگ،دس لاکھ جیری کین، دس لاکھ کچن سیٹ، پانچ لاکھ  چھتریاں اور پانچ  لاکھ اونی  میٹرسز کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال اور  پی ڈی ایم اے نے بھی ڈونر ایجنسیوں کے سربراہوں اور سفارت کاروں کو بریف کیا۔ اس موقع پر  ڈونر ایجنسیوں اور سفارتکاروں   کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت  کی مدد   کی جائے گی۔

 سیلاب  متاثرین  کی بحالی میں  عالمی برادری پورا ساتھ دے گی۔