سیاست کا قبلہ درست کرنا پڑے گا


سیاست کا قبلہ درست کرنا پڑے گا


کوئٹہ،عدنان اطہر 


ن لیگی رہنما عابد شیر علی کی نیویارک میں اپنے میزبان کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے انتہائی مہذب انداز اور شائستہ لہجے کی ویڈیو وائرل ہوتےہی ملک میں ایک عجیب وغریب بحث شروع ہوگئی ہے،جب میزبان نے کہاکہ یہ کھانا پاکستانی عوام کےپیسوں کا ہے، پھرکیاتھا جو گندی غلیظ گالیوں کا جو آپس میں تبادلہ ہوا، اس نے ن لیگ کی قیادت کا سر شرم سے جھکا دیاہے، صرف یہ ایک ویڈیو نہیں ہمارے تمام سیاست دان ایک جیسے ہی ہے اس طرح کے عمل سے وہ ووٹ حاصل کرکے اعلیٰ عہدوں پر برجمان ہوجاتےہیں ، لیکن انکی حقیقت اور اصیلیت یہی ہوتی ہے جو عابد شیر علی نے لہجہ طریقہ اور زبان استعمال کی ۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ امریکہ میں  جب الیکشن ہوتے ہیں تو وہاں پرہر صدر اپنے پروگرام کی بات کرتاہے اگر ہم آئے تو ہم یہ ریفارمز لائینگے لیکن ہمارے یہاں کیا ہوتاہے ایک تو اس معاشرے کا المیہ یہ ہےکہ ہم خود انتہائی چھوٹے لوگ ہے جو ایثے لوگوں کو ووٹ دے کر اپنے اوپر نالائق رہنما بیٹھا دیتےہیں ۔

کبھی آپ اور ہم میں سے سوچا ہےکہ پاکستان میں صرف مذہب پر اور قومیت پر سیاست کیوں ہوتی ہے کیا یہ عام آدمی کا مسئلہ ہے نہیں نہ عام آدمی کو کھنانے پینے  کی اشیاء سستی چاہیے، سڑکیں بہتریں چاہیے ،ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کےلیے سستی ٹرانسپورٹ چاہیے، علاج معالجےکی بہتر سہولیات چاہیے بچوں کےلیے تفریح اور روزگار کےبہتر مواقع چاہیے ، انصاف قانون سب کے لیے مساوی ہونا چاہیے ، تعلیم بہتر چاہیے لیکن کیا ایسا ہو پاتاہے ہم کیوں پھر قومیت جا نعارہ لگانے والوں کی تقلید کرتےہیں اس لیے تو ہم سب نقصان اٹھاتے ہیں جب تک ہم سب خود ٹھیک نہیںہوتے  یہ مسئلہ ایسا ہی رہے گا ہم نے  ہمیشہ غلط کو غلط کہناہے اور ٹھیک کو ٹھیک یار ستر سال سے زائد عرصہ گزرگیا ہے بہت نفرتیں پال لی ہے اب ہمیں انسانوں کی طرح سوچنا ہوگا حق کو حق ماننا ہوگا بہت جہالت کے اندھیروں میں ہم رہ لیے اصل میں عابد شیر علی کی یہ گالیاں یہ ہماری ساری اس قوم کےلیے ہے جو قومیت کے چکر میں آکر ووٹ دیتے ہیں۔

ہم خود ٹھیک ہونگے تو سیاست دانوں کا احتساب کرسکتے ہیں۔ہم نےخود راہ غلط اپنائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑتاہے  مہذب قوم کے مہذب لیڈر ہوا کرتےہیں اگر ہم بہتر سوچ سکتےہیں سمجھ سکتےہیں تو ہمارا فیصلہ بھی ٹھیک ہوگا ۔ اس طرح ہماری قوم ایک بہتر ترقی کی راہوں پر گامزن ہوگی اور کوئی عابد شیر علی دیار غیر میں گندی زبان کااستعمال نہیں کرسکےگا۔