سب کو ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ صبر کی بھی ایک حد ہے، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ
اسلام آباد میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا یوم شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ
یوم شہدا پر بطور آرمی چیف آج آخری خطاب کررہاہوں،
یوم شہدا کی تقریب سیلاب کے باعث تاخیر کا شکار ہوئی،معذرت خواہ ہیں اور
شہدا کے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے،
ہمارے جوان ہر وقت اپنے وطن کے دفاع کےلیے تیار رہتےہیں،آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نےکہاکہ فوج کا سب سے پہلا کام اپنی سرحدوں کا دفاع کرناہے،
پاک فوج نے اپنے مینڈیٹ سے بڑھ کر قوم کی خدمت کی ہے،
سابقہ مشرقی پاکستان میں فوجی نہیں بلکہ سیاسی ناکامی تھی،
کئی حلقوں کی جانب سے فوج پر شدید تنقید کے ساتھ غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا گیا،
ایک جعلی اور جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی،
اب اسی جھوٹے بیانیئے سے راہِ فرار اختیار کی جا رہی ہے،
کیا یہ ممکن ہے کہ ملک میں بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہِ کبیرہ ہے،
سب کو ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ صبر کی بھی ایک حد ہے،
امید ہے سیاسی جماعتیں اپنے رویئے پر نظرثانی کریں گی،
وثوق سے کہہ سکتا ہے ہوں کہ پاکستان سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے،
کوئی بھی ایک سیاسی جماعت ملک کو اس مشکل سے نہیں نکال سکتی،
ملک میں اب استحکام ضروری ہے،
ہار اور جیت سیاست کا حصہ ہوتی ہے،
سیاست میں سلیکٹڈاور امپورٹڈ کے القابات کو ختم کرنا ہوگا، آرمی چیف نےکہاکہ
کسی نے سلیکٹڈ کا لقب دیا تو کسی نے امپورٹڈ کا، یہ غلط ہے،
ہار جیت سیاست کا حصہ ہے،
پاکستان کی سلامتی کیلئے شہداء نے بےپناہ قربانیاں دی ہیں،اور
مادروطن کی سالمیت کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے اور رہے گا۔