سندھ حکومت جائزہ لے کر بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کے بعد خلاف ضابطہ تمام تقرریوں اور تبادلوں کا فیصلہ واپس لے۔
سندھ ہائی کورٹ کا حکم آگیا۔رہنما پی ٹی آئی علی زیدی کا کہنا ہے حلف یافتہ لوگوں کو ایڈمنسٹریٹر لگایا گیا۔اچھی طرح جانتے ہیں جن میں قربتیں بڑھ رہی ہیں،،وہ ماضی میں ایک دوسرے کو کیا کہتے تھے۔
سندھ ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی شیڈول کے بعد خلاف ضابطہ تقرریوں اور تبادلوں کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ کراچی اور حیدرآباد میں ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی غیرقانونی ہے۔ عدالت نے دریافت کیا کہ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کا کیا اسٹیٹس ہے ۔ اس پر وکیل نے کہا انہیں رواں ماہ کی نو تاریخ کو لگایا گیا ۔عدالت کا ایڈوکیٹ جنرل سے کہا آپ کا بیان ریکارڈ کرلیتے ہیں۔ الیکشن شیڈول کے بعد جو تقرریاں ہوئی ہیں،، وہ واپس لیں گے۔جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے حکومت بتائےان تقرریوں اور تبادلوں کا کیا کرنا ہے ۔سیکریٹری سروسز نے یقین دہانی کرائی ہم دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔کوئی کام خلاف ضابطہ ہوا ہے،، تو فیصلہ واپس لے لیں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں رہنما پی ٹی آئی علی زیدی کا کہنا تھا الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد حلف یافتہ لوگوں کو ایڈمنسٹریٹر لگایا گیا۔ الیکشن کمیشن نے بات نا سنی ،،،تو عدالت آنا پڑا۔
حلف یافتہ کو انہوں نے لگادیا کراچی کاایڈمنسٹریٹر،،،ہم نے الیکشن کمیشن کو اسی دن خط لکھا پریس کانفرنس بھی کی ،،، ان کے ٹوئیٹر اکاونٹ بھی دکھائے اگر یہ لگ سکتے ہیں تو عزیر بلوچ کو بھی ایڈمنسٹریٹر لگادو ساوتھ کا جیت جاوگے
عدالت نے سندھ حکومت کو الیکشن شیڈول کے بعد تمام تقرریوں اور تبادلوں کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔ کہا کہ خلاف ضابطہ تمام تقرریوں اور تبادلوں کا فیصلہ واپس لیا جائے۔