تحریر:- شہاب الدین عرف ظفر علی محمدی
(ریٹائرڈ) جج پنو عاقل
دادو شہر والی بال کا گہوارہ رہا ہے اور دادو اور جھنگ سیال پنجاب میں ہونے والے والی بال ٹورنامنٹ پورے پاکستان میں مشہور ہیں میں خود 42 سال سے اس ٹورنامنٹ سے لطف اندوز ہوتارہاہوں اور مہران کلب دادو کا تاحیات ممبر ہوں۔
دادو ضلع نے والی بال کے مشہور کھلاڑیوں کو جنم دیا ہے جن میں استاد مرحوم حاجی محمد صالح ٹگو، سکندر علی گھلو، عنایت موالو، لالہ عبدالستار قریشی، استاد عبدالسمیع میمن، منیر احمد ، انور الدین میمن، سید اکبر شاہ اور محمد طیب کھوکھر جن کے نام قابل ذکر ہیں۔
1962 میں ایک نوجوان لڑکا جسے سکندر علی گھلو کے نام سے جانا جاتا تھا، کرکٹ کا دلدادہ تھا اور ضلع دادو میں ایک فاسٹ باؤلر کے طور پر اپنی پہچان بنانا چاہتاتھا، لیکن بعد میں اس نے والی بال کو بھی وقت دینا شروع کیا اور والی بال کے کھیل میں شائقین نے اسے دیکھ کر خوشی کا اظہار کرنا شروع کر دیاتھا۔ جمپ والی اور اسٹائل اور پھر سکندر گھلو نے بھی والی بال کو اپنا دل دے دیا۔
سکندر علی گھلو شاہین کلب دادو کا مرکزی ممبر تھا اور اس نے حیدرآباد کے ایک شعبہ میں ملازمت حاصل کی اور وحدت کالونی حیدرآباد کی ٹیم میں کھیلنا شروع کر دیا، انہیں اپنے آبائی شہر دادو میں پوسٹنگ ملی اور اس کے بعد وہ مہران کلب دادو کے ممبر بن گئے۔
مہران کلب دادو میں لالہ عبدالستار قریشی جیسے کھلاڑی اور منیر احمد جیسے جاندار کھلاڑی کے ساتھ ساتھ انوارالدین میمن جیسے کھلاڑیوں کی موجودگی کی وجہ سے ٹیم مضبوطی سے آگے آئی اور سندھ اور پنجاب میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور کامیاب ہوئے
مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ ۔سابق وزیر اعظم پاکستان میر ظفر اللہ خان جمالی اور سابق ایم این اے پیر سید غلام رسول شاہ آف پبن شریف میرپور خاص اور ملک سکندر خان ایم این اے جنہوں نے سکندر علی گھلو کو اور اس کے کھیل کو بے حد پسند کیا کرتے تھےیہ بھی ایک حقیقت ہے۔ میں خود سکندر علی گھلو کے کھیل کا مداح رہاہوں۔
سکندر علی گھلو پچاس سے زائد آل پاکستان والی بال ٹورنامنٹ جیت چکے ہیں اور کئی گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔
سکندر علی گھلو جب بیمار ہوئے تو محکمہ ثقافت کی طرف سے کوئی مدد نہ ملنے پر وہ بستر مرگ پر پڑے رہے اور 77 سال کی عمر میں اپنے خالق سے جا ملے۔
میری دعا ہے کہ رب کریم اس کی مغفرت فرمائے اور اس کے بچوں کی حفاظت فرمائے