بلوچستان کے علاقے تربت میں مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار اور مزدوروں سمیت 5 افراد جاں بحق جبکہ ایک مزدور زخمی ہوا،،،
پولیس کے مطابق تربت کے علاقے ناصرآباد میں مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار آساجان سکنہ نزد تحصیل تمپ ضلع پکڑو، محمد عظیم ولد ظفر مظفر گڑھ، شہباز ولد غلام رسول مظفر گڑھ، شہزاد ولد غلام رسول مظفر گڑھ اورباقر ولد شبیر مظفر گڑھ جاں بحق جبکہ مدثر ولد شبیر محمد سکنہ مظفر گڑھ زخمی ہوا،،،
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سیکورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پہنچیں،،، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا اور جاں بحق افراد کی لاشیں اور زخمی شخص کو ہسپتال منتقل کیا گیا،،،
ضلعی انتظامیہ تربت کے مطابق تربت میں قتل ہونےوالے 4مزدوروں کی لاشیں مظفر گڑھ کے لئے روانہ کردی گئیں ہیں،،،
چاروں مزدوروں کو اعلی الصبح نامعلوم دہشت گردوں نے تربت میں فائرنگ کرکے قتل کیا تھا ،،،،
جاں بحق مزدوروں کی لاشوں کو خصوصی ایمبولینسز میں پولیس اور لیویز فورس کی نفری کے ہمراہ مظفرگڑھ روانہ کیا گیا،،،
اس سے قبل مقتولین کی لاشوں کو سول ہسپتال تربت میں لایا گیا تھا جہاں ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد مزدوروں کی لاشوں کو انکے آبائی علاقے کی جانب روانہ کیا گیا،،، جبکہ زخمی شخص کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا،،
نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے تربت میں چار مزدوروں اور ایک پولیس اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا،،،
اپنے بیان میں میر علی مردان علی ڈومکی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا واقعہ قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے،،،، دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا،،،،
نہتے مزدوروں کا قتل اندوہناک واقعہ ہے،،،، ملوث عناصر کو ہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا،،،
نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نے وزارت داخلہ و قبائلی امور سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی،، انکا کہنا تھا کہ بحالی امن کی کوششوں کو سبوتاژ ہونے نہیں دیں گے، بحالی امن کے لئے سکیورٹی فورسز کے بہادر جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،،،
تربت واقعہ کے بعد نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت کوئٹہ میں امن و امان سے متعلق ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں انسپکٹر جنرل بلوچستان پولیس عبدالخالق شیخ کی اجلاس کو تربت واقعہ سے متعلق بریفننگ دی،،،
نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی نے اجلاس ے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تربت واقعہ افسوسناک ہے، ریاست کی رٹ ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی،،،
انفارمیشن شئیرنگ کے نظام کو مربوط بنا کر اس قسم کے واقعات کا تدارک یقینی بنایا جائے،،، نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہدایات جاری کیں کہ تخریب کاری کے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیےمنصوبہ بندی کی جائے ،،،
مزدوروں کی پروفائلنگ اور سیکورٹی انتظامات کو فول پروف بنایا جائے،،، ملوث عناصر اور معاونت کاروں تک پہنچنے کے لیے مشترکہ اینٹیلی جنس کے نظام کو مربوط بنایا جائے،،،
علی مردان ڈومکی نے کہا کہ تربت میں پولیس اور لیویز فورس میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کیا جائے گا ،،،،
نئی بھرتی کے عمل تک صوبے کے مختلف اضلاع سے دستیاب نفری کو تربت میں تعینات کیا جائے،،،
تربت میں پولیس ، لیویز ، سی ٹی ڈی اور حساس اداروں کے اہلکاروں پر مشتمل تفتیشی ٹیم کا اجلاس روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے۔