آمریکہ اسرائیل کی مدد سے مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے،
امریکہ نے دنیا کو جنگوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ عوامی تحریک کے تعلیمی تربیتی ورکشاپ میں لیکچررز کا اظہار خیال
حیدرآباد حیدرآباد کے قریب گاؤں پبن شریف میں عوامی تحریک کی جانب سے منعقدہ تین روزہ تعلیمی تربیتی ورکشاپ آج تیسرے روز اختتام پذیر ہوا۔
ورکشاپ میں مختلف ادیبوں، دانشوروں اور ماہرین نے مختلف موضوعات پر لیکچرز دیئے۔ تعلیمی ورکشاپ کے آخری روز سندھی ہاری تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی نے ’’موجودہ عالمی صورتحال‘‘، فلسفے کے استاد راشد داؤدپوٹو نے ’’ماؤ سے ژی جن پنگ تک چین کی معاشی پالیسی‘‘، معروف ادیب میر حسن آریسر نے ’’انقلابی جدوجہد میں ادب کے کردار"، کالم نگار اور مصنف ادریس لغاری نے "جاسوسی کی دنیا" پر اور سندھیانی تحریک کی مرکزی میڈیا سیکرٹری سندھو ملاح نے "چینی انقلاب" پر لیکچرز دیئے۔ ورکشاپ کا اختتام قومی اور انقلابی نغموں اور شاعری کے ساتھ ہوا۔ ورکشاپ میں عوامی تحریک اور سندھیانی تحریک کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ورکشاپ میں لیکچر دیتے ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی نے کہا کہ آمریکہ اسرائیل کی مدد سے مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ امریکہ نے دنیا کو جنگوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔
فلسطین پر جنگ امریکہ نے مسلط کی ہے۔ دنیا اس وقت کئی طریقوں سے بدل رہی ہے۔ چین اس وقت تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کے ذریعے دنیا میں ترقی کر رہا ہے، چین امریکہ کے مقابلے دنیا کو ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔
راشد داؤدپوٹو نے کہا کہ چین سوشلزم کی ابتدائی دہلیز پر
ہے، سوشلزم کی کوئی ایک شکل نہیں ہے۔ یہ نظام مختلف معاشی، سماجی اور سیاسی حالات
میں مختلف ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر مارکسزم اور لینن ازم پر انحصار کرتے
ہوئے، چین نے 1980ع کی دہائی میں اقتصادی اصلاحات متعارف کروائی تھی۔ چین نے گزشتہ
دہائی میں غربت کا خاتمہ کیا ہے اور جدت لائی ہے۔
چین کے بین الاقوامی پروگرام کو اقتصادی لحاظ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ چین کی سیاست معیشت کے غلاف میں ڈھکی ہوئی ہے۔ سامراج دوسرے ممالک کو غریب رکھتا ہے اور چین غریب ممالک کو خود مختار بنانا چاہتا ہے۔
میر حسن آریسر نے کہا کہ سیاست کا میدان ہی وہ میدان ہے جو اپنی تدبیر اور حکمت عملی سے قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ سیاست جیسے اہم اور بنیادی شعبے کا ادب سے مضبوط تعلق ہی کامیابی کی اصل وجہ ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ سندھ کی سیاست اور ادب نے ون یونٹ کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اکٹھے جدوجہد کی۔
سندھ کے آج کے خطرناک حالات میں بھی سیاست کو ادب کی ڈھال ہاتھ میں لے کر میدان میں اترنا پڑے گا۔
ادریس لغاری نے کہا کہ جاسوسی کی زبان الگ ہوتی ہے۔ جاسوسی کی تاریخ پڑھ کر جاسوسی کی زبان کو ڈی کوڈ کر کے سمجہا جا سکتا ہے۔
مسلمانوں نے جاسوسی پر بھی بہت اچھا کام کیا ہے۔ جاسوسی اصطلاحات پر الکندی کی کتاب بہت اہم ہے۔ سندھو ملاح نے کہا کہ ماؤزی تنگ کی فکر پوری دنیا کی مظلوم اقوام کے لیے روشنی کا کرنا ہے۔
چین کے انقلاب نے آج چین کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔
اس موقع پر عوامی تحریک کے مرکزی صدر لال جروار، مرکزی جنرل سیکریٹری نور احمد کاتیار، مرکزی نائب صدر حور النساء پلیجو، سماجی رہنما نور محمد بجیر، نور نبی پلیجو، سندھیانی تحریک کی مرکزی آرگنائزر عمرہ سموں، نور بانو ملاح، آصف کھوسو، ڈاکٹر ایاز سموں، عبدالرحمٰن سموں، ساجدہ پرہیار، زاہدہ لاشاری، عاطف ملاح، حاجی خان سمون سمیت سینکڑوں خواتین اور مردوں نے شرکت کی۔