کراچی سٹی کونسل کے تیسرے اجلاس میں اپوزیشن ارکان کے شور شرابہ کی وجہ سے
کارروائی پندرہ منٹ سے زیادہ نہ چل
سکی۔
میئر کراچی مرتضی وہاب نے اسی دوران بارہ
قراردادیں کثرت رائے سے منظور کروالیں ۔
کہتے ہیں اپوزیشن کےشور شرابے کی پروا نہیں ۔ سٹی کونسل کا اجلاس
پیر کو طلب کر لیا
کراچی سٹی کونسل کا تیسرا اجلاس شروع
ہوتے ہی ہنگامہ آرائی کا شکار ہوگیا ۔
اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی
کے اراکین نے میئر نامنظور کے نعرے لگانا شروع کردیئے
اجلاس
کی صدارت کرنے والے میئر کراچی کی حمایت میں پیپلز پارٹ کے اراکین نے بھی جوابی
نعرے بازی کی ۔
مرتضٰی وہاب نے
پورا زورلگایا اور اونچی آواز میں
یکے بعد دیگرے بارہ قراردیں منظور کروالیں
میئر کراچی کا موقف ہے کہ جماعت اسلامی کےاراکین ہر اجلاس میں ہلڑ بازی کرتے ہیں، لیکن
اب اجلاس بھی ہوں گے اور شہر کے مسائل پر بات بھی ہو گی ۔
اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ کا
کہنا تھا کہ وہ مرتضی وہاب کو میئر تسلیم نہیں کرتے ۔ ہلڑ بازی کا اندازہ تھا اس
لئے حافظ نعیم الرحمان اجلاس میں شرکت کرنے نہیں آئے
شدید ہنگامہ آرائی کے باوجود پندہ منٹ چلنے والا سٹی کونسل کا
اجلاس پیر کی دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کر دیا گیا