لاہور میں
مسلم لیگ ن کے رہنما نوازشریف نے میڈیا سے بات کرتےہوئےکہاہےکہ اللہ کاشکر
ہے کہ تمام جھوٹے مقدمات سے بریت ہوئی ،
میرے خلاف مقدمات حکومت
ختم کرنے کے لیے بنائے گئے،ن
میرے پارٹی رہنماؤں اور
کارکنان کو میری بے گناہی کایقین تھا،
میرے خلاف تینوں مقدمات میں
کوئی جان ہی نہیں تھی،
میرے خلاف مقدمات میں ان
کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا،ن
انہوں نے پانامہ سے سلسلہ
شروع کیا اور پھراقامہ لے آئے،
ایک وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر گھر بھیجاگیا،نوازشریف کا کہناتھاکہ
ہمارے خلاف بہت سے قوتیں
متحرک تھیں،
میرے خلاف وہ فیصلہ سنایا گیا جودنیا بھر میں مذاق بن کررہ گیا،
جس طرح کے الفاظ فیصلے میں
استعمال کیے گئے،کیا ایسے ریمارکس بھی آتے ہیں
عدالتی ٹرائل کے ساتھ میڈیا ٹرائل
بھی ہورہا تھا انکا کہناتھاکہ
عام عوام بھی سمجھتے تھے
کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،
ہائیکورٹ میں میرے
خلاف مقدمات کاکھوکھلا پن سامنے آگیا،
ہم نے لندن سے درخواست کی
ہے کہ ہم عدالت میں پیش ہونے آرہے ہیں
ہم نے کہا ہمارے آنے پر سزا دی جائے،لیکن انہوں نے پہلے ہی سزا دی،
میری غیرموجودگی میں نیب
کورٹ نے فیصلہ سنادیا،
جیل سے ایک بار فون کرنے کی
اجازت ملتی تھی،
مجھے اور میرے خاندان کو
سزا اصل میں 25کروڑ عوام کو سزا ہے،
میرے ساتھ جوہوا سو ہوا
مگر سزا پورے پاکستان کو ملی،
21اکتوبر کو جلسے میں
کہا کہ میں انتقامی جذبے سے
پاکستان نہیں آیا،
اپنے ساتھ ہونے والی زیادہ
بھول سکتا ہوں،ملک کیخلاف سازش کو کیسے بھول جاؤں،