سندھ میں عام انتخابات کے لئے قائم انیس ہزار ، آٹھ پولنگ اسٹیشنز میں سے چھ ہزار سے زائد انتہائی حساس قرار۔

عرفان علی عرفان علی

سندھ میں عام انتخابات کے لئے  قائم  انیس ہزار ، آٹھ پولنگ اسٹیشنز میں سے  چھ ہزار سے زائد انتہائی حساس قرار۔

سندھ میں عام انتخابات کے لئے  قائم  انیس ہزار ، آٹھ پولنگ اسٹیشنز میں سے  چھ ہزار سے زائد انتہائی حساس قرار۔

ہر انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن پر سات پولیس اہلکار تعینات ہوں گے۔

پولنگ اسٹیشنز پر فوجی جوانوں کی تعیناتی بھی مکمل۔  ایپکس کمیٹی اجلاس میں وزیراعلی سندھ کو آگاہی۔

 آئی جی نے بتایا کہ دوہزار تیئس میں گزشتہ سال کی نسبت  موبائل فون، موٹرسائیکل اور گاڑیاں چوری اور چھینے کی وارداتوں میں چار فیصد سے زائد کمی ہوئی۔

نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کی  کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا تیسواں اجلاس ہوا۔

صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری سندھ  ،کورکمانڈر کراچی لیفٹننٹ جنرل بابر افتخار ،  ڈی جی رینجرز میجر جنرل اظہر وقاص، آئی جی پولیس رفعت مختار، حساس اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ آئی جی سندھ  نے بتایاصوبہ میں  انیس ہزار، آٹھ پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔

 ان میں سے چھ ہزار، پانچ سو پچاس حساس اور چھ ہزار، آٹھ سو ایک  انتہائی حساس ہیں۔ نارمل پولنگ اسٹیشن میں چار  پولیس اہلکار، حساس  پر پانچ  اور انتہائی حساس  پر سات  پولیس اہلکار فرائض انجام دیں گے۔

 کور کمانڈر  کراچی لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے شرکا کو بریف کیا کہ فوجی جوان اور افسر اپنی ڈیوٹی کے علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔

آرمی کی پولنگ اسٹیشنز پر تعیناتی مکمل ہوگئی۔ امن و امان پر آئی جی سندھ نے بتایا دوہزار تیئس میں چھیاسی ہزار، چھ سو چھیاسی  موبائل فون، موٹرسائیکلیں، گاڑیاں چوری اور چھینی گئیں،، جو دوہزار بائیس  کے مقابلے میں چار  اعشاریہ ایک  فیصد کم تھیں۔

 یکم جنوری دوہزار تیئس سے اگست تک  سات سو سینتیس پولیس مقابلوں میں ایک سو آٹھ اسٹریٹ کرمنلز ہلاک اور آٹھ سو نواسی زخمی  ہوئے۔ تیرہ ڈاکو ہلاک جبکہ  پانچ ہزار، دوسو چھبیس ڈاکو گرفتار ہوئے۔

 اسی عرصہ میں  تین ہزار ، چارسو مختلف اقسام کا اسلحہ  پکڑا  اور سترہ ہزار کلو گرام سے زائد منشیات پکڑی گئی۔

 اغوا برائے تاوان  کے ایک سو ستر  مقدمات درج ہوئے،، جن میں تمام افراد بازیاب کرائے گئے۔

 ابھی چار افراد کو بازیاب کرانا ہے۔

وزیراعلی سندھ کا کہنا تھا اسٹریٹ کرائم ہر صورت میں کنٹرول ہونے چاہیں۔

اسٹریٹ کرائم کے سماجی محرکات حکومت ٹھیک کرے گی لیکن پولیسنگ بہتر ہونی چاہئے۔