سندھ میں پانی کابہت بڑا مسئلہ ہے،زمینیں بنجر ہورہی ہیں

عمران عمران

سندھ میں پانی کابہت بڑا مسئلہ ہے،زمینیں  بنجر ہورہی ہیں

سندھ میں پانی کابہت بڑا مسئلہ ہے،زمینیں  بنجر ہورہی ہیں

دریائے سندھ  سے چولستان کو سیراب  کرنے کیلئے نہریں نکالی جارہی ہیں شیری رحمان


دریائےسندھ پر کمرشل کموڈٹی فارمنگ کیلئے بیراج ڈیمز کنال تعمیر سے متعلق تحریک التوا پیش


سینیٹر شیری رحمان نے پہلے سے منظور شدہ تحریک التواء پر بحث کیلئے پیش کی 

معاملہ پر سندھ کے تمام علاقوں میں شدید احتجاج ہوا، 

حکومتی فیصلے پر سندھ سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، 

سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں وزیر اعلی سندھ نے واضح اعتراض کیا،سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ چولستان کے ریگستان کو ہریالی میں تبدیل کرنے کیلئے پانی تبدیل کیا جا رہا ہے،

25 سال سے ارسا پانی کی کمی رپورٹ کر رہی ہے،

کوشش ہوتی ہے اس پر منصفانہ تقسیم ہو، 

بلوچستان اور سندھ دونوں صوبے اس معاملے پر اعتراض کر چکے، 

سات ملین ایکڑ کس طرح زرخیز بنائیں گے جبکہ پانی نہیں ہے، 

کوٹری اور گڈو سے پیچھے دریائے سندھ ٹھاٹے مارا کرتا تھا، 

اب وہ صورتحال کہاں ہے سب کو پتہ ہے پانی کم ہے، 

کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر،بوند بوند پانی کو شہری ترستے ہیں،

دریائے سندھ  سے چولستان کو سیراب  کرنے کیلئے نہریں نکالی جارہی ہیں 

سنیٹرشیری رحمان نے سینٹ اجلاس میں خطاب کرتےہوئےکہاہےکہ دریائے سندھ  سے چولستان کو سیراب  کرنے کیلئے نہریں نکالی جارہی ہیں 

اور سندھ میں پانی کابہت بڑا مسئلہ ہے،زمینیں  بنجرہورہی ہیں۔

شیری رحمان نےکہاکہ 7ملین ایکڑز زمین کیسے زرخیز  بنائیں گے،

 کراچی کے لوگوں  کو پینے کاپانی میسر نہیں، کراچی میں پانی کے لیے چھیناجھپٹی ہوتی ہے20سال پہلے دریائے سندھ کی صورتحال بہت اچھی تھی

 پاکستان میں پہلے ہی پانی کی  کمی ہے، جب سیلاب آتا ہے تو سندھ اور بلوچستان زیادہ متاثر ہوتا ہے


 انکا کہناتھاکہ کافی عرصے سے مشترکہ  مفادات کونسل کااجلاس نہیں ہوا 

اگر کوئی مجبوری ہے یا معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں تو ہم سے شیئر کریں سینیٹ میں اعدادو شمار صحیح نہیں دیے جاتے اور مذاکرات جمہوریت کاحسن ہیں