"اس دل نے کرنے چاہے تھے تم سے ہزار جھگڑے۔ سندھی اردو زبان کے نامور شاعر آکاش انصاری حیدر آباد میں انتقال کر گئے

عرفان علی عرفان علی


سندھی زبان و ادب کے معروف باکمال رومانوی، ترقی پسند اور باغی شاعر آکاش انصاری گھر میں آگ لگنے کے باعث جھلس کر انتقال کرگئے۔

ان کی شاعری اپنی دھرتی اور سماج میں ظلم و ستم کے خلاف ایک مزاحمت ہے وہ ایک سول سوسائٹی کے متحرک کردار تھے

قاسم آباد سٹیزن کالونی  گھر میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگنے  کے باعث وہ جاں بحق ہوئے

سندھ کے نامور مزاحمتی شاعر ، ادیب ، دانشور اور صحافی ڈاکٹر آکاش انصاری کل رات سیٹیزن کالونی حیدرآباد میں گھر میں ہونے والے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے جھلس کر وفات پا گئے ۔

سندھی ادب سے وابستہ افراد کا کہنا ہےکہ

یہ سندھی ادب کا انہتائی افسوسناک نقصان ہے ، آکاش انصاری مرحوم کہتے تھے کہ عظیم ، باوقار اور معاشرے کے باشعور افراد اپنی دھرتی اور قوم کے لئے ہر مشکل گھڑی میں متحد ہو کر مقابلہ کرتے ہیں۔

ادب کے اس عظیم سپوت کا کہنا تھا کہ شاعروں نے طاقتور آمروں کو للکارا اور کلمہ حق بلند کرنے پر قید کاٹی اور کوڑے بھی کھائے مگر کبھی اپنے اصولوں سے سودے بازی نہیں کی۔

آکاش انصاری کی شاعری 


"اس دل نے کرنے چاہے تھے تم سے ہزار جھگڑے 

مگر دل نے پھر کہا ایسا ، تم سے حساب کیسے ؟" 


ڈاکٹر آکاش انصاری صاحب کا اصل نام اللہ بخش انصاری تھا ، 25 دسمبر 1956 کو بدین کے گاؤں ابل وسی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم بدین سے حاصل کی اور 1984 میں لیاقت میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کی۔ کالج کے زمانے سے ہی وہ قومی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر مشہور ہوئے اور بائیں بازو کی سیاست میں سرگرم رہے ، جہاں انہوں نے عوامی تحریک میں 15 سال تک بطور ڈپٹی سیکریٹری اور سیکریٹری جنرل خدمات انجام دیں۔


جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران ، قومی اور انقلابی شاعری کرنے کے باعث انہیں جیل بھی جانا پڑا۔ 1995 میں انہوں نے صحافت میں قدم رکھا اور روزنامہ "سوال" اخبار جاری کیا ، جس کے وہ خود چیف ایڈیٹر تھے جبکہ حسن درس ایڈیٹر تھے۔ 2002 میں ڈاکٹر آکاش نے رورل ڈیولپمنٹ میں ایم اے کیا اور 2004 میں ایسٹرن واشنگٹن یونیورسٹی امریکہ سے جدید تعلیمی نظام میں ڈپلومہ حاصل کیا۔


ڈاکٹر آکاش انصاری آج 15 فروری 2025 کو انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر سندھ کے سارے ادب پرور دوست سوگوار ہیں اور ان کی مغفرت کیلئے دعاگو ہیں ۔