کراچی میں مصطفی عامر گمشدگی اور مبینہ قتل کیس میں شریک ملز م شیراز ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

عمران عمران

 کراچی میں   مصطفی عامر گمشدگی  اور مبینہ قتل  کیس میں شریک ملز م شیراز ریمانڈ پر پولیس کے حوالے


کراچی میں   مصطفی عامر گمشدگی  اور مبینہ قتل  کیس میں شریک ملز م شیراز ریمانڈ پر پولیس کے حوالے۔عدالت  کے روبرو اعتراف جرم۔ مقتول کی والدہ کی  قبر کشائی کی اجازت کے لئے عدالت میں درخواست۔  پولیس نے مرکزی ملزم   ارمغان کےجسمانی ریمانڈ کےلئےسندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔ ایس ایچ او تھانہ درخشاں، ایس آئی او اور تفتیشی افسر کو معطل کردیا  گیا۔ 

کراچی میں   مصطفی عامر گمشدگی  اور مبینہ قتل  کیس میں  انسداد دہشت گردی عدالت نے  شریک ملزم شیراز  کو اکیس فروری تک جسمانی  ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ دوران سماعت عدالت نے دریافت کیا  پولیس نے آپ کو مارا ہے۔ اس پر ملزم نے تردید کی۔ ملزم نے بتایا  مصطفی ارمغان کے گھرڈیفنس آیا تھا۔وہاں ہمارا اس سے جھگڑا ہوا اور ہم  نے اس پر تشدد کیا۔ تشدد کے بعد مصطفی کو مارا اور مقتول ہی  کی گاڑی میں لاش کو حب لے گئے۔


 مقتول کی والدہ نے قبر کشائی کی اجازت کے لئے  انسداد دہشت گردی عدالت میں  درخواست دائر کردی۔منتظم عدالت نے درخواست گزار کو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے رجوع کرنے  کی  ہدایت کی۔ دوسری جانب پولیس نے مرکزی ملزم   ارمغان کےجسمانی ریمانڈ کےلئےسندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔ چھاپہ مارنےوالی ٹیم کے خلاف مقدمے کے اندراج سے متعلق آرڈربھی چیلنج کردیا۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ کا کہنا ہے انسداد دہشت گردی عدالت کےمنتظم جج نے ملزم کو جیل بھیج دیاتھا۔یہ ایک انتہائی سنگین نوعیت کا مقدمہ ہے۔تفتیش شروع ہونے سے پہلے ملزم کو جیل بھیجنا انصاف کے خلاف ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پولیس پارٹی کے خلاف مقدمے کا حکم ناقابل فہم ہے۔انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔


  نئی پیش رفت میں ڈی آئی جی ساؤتھ نے ایس ایچ او تھانہ درخشاں، ایس آئی او اور تفتیشی افسر کو معطل کردیا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق معطل افسران پر مقدمے کی تفتیش میں سستی برتنے کا الزام ہے۔ سات  جنوری کو مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیشی افسران نے کیس میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔