جوڈیشل مجسثریٹ شرقی میں صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

 جوڈیشل مجسثریٹ شرقی میں صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ


جوڈیشل مجسثریٹ شرقی میں صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ ، فیصلہ کل سنایاجائے گا ۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ذاتی طور پر طلب کرلیا گیا ۔عدالتی اجازت کے بغیر ملزم کو دوسرے مقدمےمیں گرفتار کرنے پر عدالت کا اظہار برہمی ۔ تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا 


جوڈیشل مجسثریٹ شرقی میں صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی ۔ فرحان ملک کے وکیل معیزجعفری ایڈووکیٹ کا کہنا تھا مقدمہ بدنیتی پرمبنی ہے۔۔ایف آئی اے اب تک یہ نہیں بتاسکی کہ جرم کیاکیاہے ۔ یہ بھی نہیں بتارہے کہ فرحان ملک نے کس ادارے کی بےحرمتی کی ہے۔ فرحان ملک کےخلاف کسی ادارےنے شکایت نہیں کی ۔چھاپہ ضلع ایسٹ میں ماراگیا مقدمہ ملیر کابنادیاگیا۔ ملزم کوعدالتی حکم پرجیل منتقل کرنےکےبجائےدوسری عدالت سے ریمانڈ لےلیاگیا۔عدالت نے سوال کیا یہ کیسے ممکن ہے،تفتیشی افسرسے سوال کیاجیل کسٹڈی کے بعد ملزم کو کہاں لےکرجاناتھا۔تفتیشی افسر نے بتایا میں دوسرے مقدمےکیلئےعدالت میں موجودتھا مجھےپتہ چلاکہ ملزم کو دوسرے مقدمےمیں گرفتارکرلیاگیا۔عدالت نے کہا یہ توقانون کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ کس کےحکم پرملزم کو جیل کی بجائے دوسرے کیس میں گرفتارکیاگیا۔عدالت نے کہا نام بتائیں جس نےیہ حرکت کی ہے۔۔ تفتشی افسر نے کہا مجھےآفس سے فون آیاتھا۔عدالت نے کہا کس کافون تھا۔نام بتاو۔تفتیشی افسر نے کہا منشی کافون آیاتھا۔ عدالت نے کہا بلائین ان افسران کو جنہوں نےعدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے ۔ تفتیشی افسرنے کہا فرحان ملک نےپاکستان کے نام کامذاق اڑایا۔اس پوسٹ پر انتہائی نامناسب کمنٹس تحریرہیں۔کیاکوئی صحافی ایساکرسکتاہے۔کیاکوئی ذمےدارصحافی ایساکرسکتاہے۔ ملزم کو بلاکرہربات سے آگاہ کیاگیا