کیا سندھ میں پیپلز پارٹی وینٹی لیٹر پر ہے؟
اسحاق سومرو
محترم اعجاز منگی سندھی اور اردو کے نامور کالمسٹ ھین۔ اس نے اپنا تازہ کالم "وقت کا وینٹی لیٹر اور پاکستان پیپلز پارٹی" لکھا ہے۔ جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی کو سندھ میں وینٹی لیٹر پر قرار دیا ھے، یعنی آج پیپلز پارٹی کا وجود سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ پارٹی کی کشتی جو صرف سندھ میں تیرتی تھی اب ڈوب رہی ھے۔ سندھ نے پیپلز پارٹی سے اپنے آپ کو الگ کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
اس کی مثال وہ خود دیتے ہیں کہ بچوں، بوڑھوں اور خواتین نے پیپلز پارٹی کے خلاف اس طرح بولنا شروع کر دیا ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کی تاریخی تباہی کا بڑا اعلان ہے۔ سندھیوں نے پیپلز پارٹی کی غلامی کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکا ہے۔ اس کی وجہ وہ صرف ایک جملے میں بیان کرتے ہیں: وہ اب اپنے دریا کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ سندھ اب پہلے جیسا نہیں رہا، سندھ بدلا ہوا سندھ ہے...
ان کے شائع شدہ آرٹیکل کے مطابق پنجاب میں بے نظیر بھٹو کی سیاست میں آصف علی زرداری کے آنے سے پنجاب مین پیپلز پارٹی کا زوال شروع ہوا۔ اب سندھ میں شروع ہو گیا ہے۔ درحقیقت، 1988 کے بعد بے نظیر کی زندگی میں آصف زرداری آنے کے بعد، بے نظیر خود پنجاب سے جیتی ہوئی نشستوں پر دو بار وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔
جبکہ پیپلز پارٹی 1970 سے اب تک سندھ مین 8 بار اقتدار میں آئی ہے۔1970 سے 2024 تک ملک میں 12 عام انتخابات ہوئے جن میں سے 11 میں پیپلز پارٹی نے سندھ میں کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ صوبائی اسمبلی کی نشستیں حاصل کیں۔ 1985 میں پاکستان پیپلز پارٹی نے جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔
باوجود اس کے پیپلز پارٹی کے کٹر مخالفین جام صادق علی، ممتاز علی بھٹو، غلام مصطفی جتوئی، غلام اسحاق خان، اور پرویز مشرف نگران وزیراعلیٰ، وزیراعظم اور سربراہ مملکت رہے۔ لیکن سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دے کر کامیاب کرایا۔ لیکن 1990، 1997 اور 2002 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے سندھ سے زیادہ نشستیں جیتنے کے بعد سندھ میں حکومت بنانے میں رکاوٹیں ڈال کی سندھ مین پیپلز پارٹی کو حکومت بنانی نھین دی گئے۔
جن کے پاس ایک ووٹ تھا جام صادق علی، لیاقت جتوئی، سید مظفر علی شاہ، لیاقت جتوئی، علی محمد مہر، غوث علی شاہ، اور ارباب رحیم کو آشیرواد کی برکت سے سندھ میں برسراقتدار لایا گیا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سندھ واحد صوبہ یا ریاست ہے جہاں کے عوام نے 55 سال سے مسلسل صرف ایک جماعت پیپلز پارٹی کی حمایت کی ہے۔
اعجاز منگی صاحب اس پارٹی کے لیے لکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اب وینٹی لیٹر پر ہے۔ جو سندھ کی سو سالہ سیاسی تاریخ کی مقبول ترین جماعت بنی ہوئی ہے۔ یہ ایک معروف حقیقت ہے کہ ہر کمال کا زوال ہوتا ہے لیکن جماعتیں، معاشرے اور قیادتیں وقت کے ساتھ اور معروضی حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، اور اب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کر رہے ہیں۔
پاکستان سیاست کرنے کے لیے دنیا کا "سب سے مشکل" ملک ہے۔ کسی وزیر اعظم کو پورے پانچ سال حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مارشل لا اور عدالتی فیصلوں کی وجہ سے نہ صرف انہیں ہٹایا گیا بلکہ وزرائے اعظم کو پھانسی، قتل، جلاوطنی اور قید کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ایسے حالات میں اقتدار کا تحفظ اور جمہوریت کو مضبوط کرنا ہر حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے۔یقیناً پاکستان پیپلز پارٹی ایسے مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ اب یہ اس ملک کی سیاسی تاریخ کا معجزہ ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے قیام سے لے کر اب تک سندھ میں ہر الیکشن میں ناقابل شکست رہی ہے۔
گزشتہ چار انتخابات کے نتائج کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی نے ہر الیکشن دس جماعتی اتحاد، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس، مسلم لیگ نواز، جمعیت علمائے اسلام (فضلالرحمان ) اور قوم پرست جماعتوں کے ساتھ مل کر لڑا ہے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ میں کسی دوسری جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کیا لیکن ہر الیکشن اور خاص طور پر 2024 کے عام انتخابات میں اس نے بہت بڑی اکثریت سے سیٹیں جیت کر سندھ میں حکومت بنائی۔
جبکہ پیپلز پارٹی کا زوال، زرداری لیگ کا سندھیوں کی غلام بننا، بریانی کی پلیٹ پر بکنے کے طعنے اور بے نظیر بھٹو کی انکم سپورٹ، پی پی پی کا وینٹی لیٹر پر ہونا، دوہرا نظام، 2010 اور 2022 کے سیلاب کے دوران لکھے گئے سینکڑوں آرٹیکلز، جن میں یہ لکھا ہے کہ اب سندھی عوام پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں ڈالیں گے ، لیکن انتخابی نتائج نے انہیں مایوس اور رسوا کیا ہے۔
اعجاز منگی کا یہ مضمون ’’وقت کا وینٹی لیٹر اور پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ اسی سلسلے کی ایک شاندار تحریر ہے۔ وہ سیاسی طور پر کمیونسٹ پارٹی ( بائیں بازو ) سے وابستہ رہے ہیں۔ کل وقتی صحافت کے ساتھ ساتھ وہ پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کے مرکزی عہدیدار بھی ہیں۔ اعجاز منگی ارباب غلام رحیم کے دور میں سندھی ادبی بورڈ کے سیکرٹری بھی رہے۔ وہ ایک بڑے پڑھے جانے والے اور پسند کیے جانے والے کالم نگار ہیں، الفاظ کے جادوگر ہیں،ان کے شاعرانہ مضامین کچھ عرصے تک قارئین کے ذہنوں میں نقش رہتے ہیں۔ وہ سخت دائیں بازو کے اخبار روزنامہ امت کے باقاعدہ کالم نگار بھی ہیں ، وھ صاحب ایک ہی دن سندھی اخبار کے لیے ترقی پسند اور لبرل کالم لکھتے ہیں، اور اسی دن امت اخبار کے لیے مذہبی اور جہادی موضوع پر ایک شاندار مضمون لکھتے ہیں۔جو کہ ان کی خداداد صلاحیتون کا ثبوت ھے۔
. وہ بیک وقت صحافی بھی ہیں اور سیاست دان بھی۔ اس لیے صحافتی زبان میں (سبجیکٹو) کالم نگار ذاتی ترجیحات اور آراء کے ساتھ صحافی رہا ہے۔ برسوں سے ان کے کالموں کے پسندیدہ موضوعات پی پی پی عرف زرداری لیگ، پی پی پی شہید بھٹو، سندھی عوام، تبدیلی، متبادل، چھ کینال وغیرہ رہے ہیں۔
اعجاز سندھ یونیورسٹی میں انگلش ڈپارٹمنٹ میں میرا ہم جماعت تھا لیکن درحقیقت وہ مجھ سے ایک سال چھوٹا تھا۔ ان دنوں وہ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک دھڑے کے سرگرم رہنما تھے اور میرے ساتھ سندھ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے بعض اجلاسوں میں ڈی ایس ایف کی نمائندگی کرتے تھے۔ میں ناس وقت سندھ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی نمائندگی کرتا تھا۔ (SPSF) کی نمائندگی کی۔
میں نے اپنے باقاعدہ صحافتی کیریئر کا آغاز فروری 1983 میں اپنے آبائی شہر سکرنڈ سے آفتاب اخبار کی نمائندگی کرتے ہوئے کیا۔ شروع میں مجھے ایم آر ڈی تحریک کی رپورٹنگ کرنی پڑی ۔
اپنے اس کالم میں اعجاز منگی نے اردو کے معروف صحافی حامد میرصاحب کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ذاتی اور سیاسی حوالے سے پیپلز پارٹی کے قریب رہے ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ حدود سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر صحافی کسی نہ کسی پارٹی کے چنگل میں رہے ہیں۔لیکن اعجاز صاحب وہ خود کئی سالوں سے پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کے مرکزی رھنما رہے ہیں۔
انہیں آصف زرداری اور حامد میر کی قربت پسند نہیں۔ پھر لکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سندھی صحافیوں کے ساتھ کسانوں جیسا سلوک کرتی ہے۔ اب اعجاز صاحب آپ ہی بتائیں کہ آپ صحافت میں پروفیشنلزم کو کتنی اہمیت دیتے ہیں؟ وہ خود حامد میر پر تنقید کیوں کرتا ہے؟ پیپلز پارٹی سندھی صحافیوں کے ساتھ کسانوں جیسا سلوک کرتی ہے۔ معلوم نہیں سندھی صحافیوں کی کون سی خواہش پیپلزپارٹی نے پوری نہیں کی اور حامد میر کی کون سی خواہش پوری ھوءی ھے۔ انہے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے پنجابی صحافیوں کی عزت اور اہمیت پر اعتراض بھی ھے۔
یہ پیشہ ورانہ مہارت کا اولین تقاضا ہے، چاہے ک وہ صحافی ہو یا پارٹی میں مرکزی رھنما ۔ ہاں کسی جماعت یا نظریے سے ہمدردی ہو سکتی ہے جو کہ فطری بات ہے۔ ایاز امیر انگریزی کے معروف صحافی اور کالم نگار تھے۔ وہ 2013 میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے ٹکٹ پر چکوال سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، اس دوران انہوں نے صحافت کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا اور ایک کالم بھی نہیں لکھا۔
کچھ عرصے بعد وہ سیاست سے تنگ آ گئے، اپنی قومی اسمبلی کی نشست اور مسلم لیگ کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا، اور ڈان اخبار میں دوبارہ کالم لکھنا شروع کر دیا۔ اسی کو پیشہ ورانہ یا (معروضی) صحافت کہتے ہیں۔
. پیپلز پارٹی وینٹی لیٹر پر ہے یا سندھ سے غائب ہو چکی ہے، یہ ہم سندھی صحافیوں کا پسندیدہ بیانیہ ہے، جو کم از کم 2013 کے انتخابات سے لے کر 2024 کے انتخابات تک بہت لکھا اور پڑھا جا رہا ہے۔ یہ ایک من گھڑت بیانیہ ہے جس کا پروپیگنڈہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے مخالفین صحافیوں کے ساتھ ساتھ کر رہے ہیں لیکن سندھی عوام یعنی ووٹروں نے ہر الیکشن میں اپنا فیصلا پیپلز پارٹی کے حق مین دیا ہے۔