لیاری میں گرنے والی رہائشی عمارت کے بعد متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہیں۔ ۔۔متصل عمارتوں کے مکین جو حفاظتی اقدامات کے تحت بے گھر ہوئے، اب گورنرہاوس کےباہرنصب امید کی گھنٹی بجا کر حکومتی مدد کے طلبگار ہیں۔ ۔۔۔
لیاری کی گرنے والی عمارت کے ساتھ واقع عمارتوں کو حفاظتی اقدام کے تحت خالی کرا لیا گیا تھا۔۔۔ متاثرین نے روزگار ختم ہونے اور گھروں سے محرومی کے بعدامید کی گھنٹی بجا کر حکومتی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ رکشے ملبے تلے دب چکے ہیں، آمدنی کے ذرائع ختم ہو چکے ہیں، اور اب راشن و کھانے کے لیے بھی ترسنا پڑ رہا ہے۔۔۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری متاثرین کی فریاد پر متحرک ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرین کو راشن بیگز اور کھانے کی فراہمی جاری رہے گی۔۔۔گورنر سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ صرف وقتی امداد نہیں بلکہ متاثرین کے روزگار کی بحالی کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ وہ دوبارہ اپنی زندگیوں کو معمول پر لا سکیں۔۔۔