VCR سے ڈرون تک: جنریشن ایکس کا ناقابلِ یقین سفر"

عمران عمران

VCR سے ڈرون تک: جنریشن ایکس کا ناقابلِ یقین سفر


جنریشن ایکس: تغیر کی گواہ اور تبدیلی کی بنیاد

تحقیقی داستان از دورِ تغیرات کی نسل

دنیا کی تاریخ میں کچھ نسلیں ایسی گزری ہیں جنہیں خاص طور پر "انتقالی نسل" کہا جا سکتا ہے، لیکن شاید ہی کوئی نسل Gen X جیسی ہو ۔وہ لوگ جو 1961 سے 1991 کے درمیان پیدا ہوئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمانے کی کروٹ اپنی آنکھوں سے دیکھی، اور صرف دیکھی نہیں، بلکہ اس تبدیلی کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھایا۔

جہاں ایک طرف انہوں نے خط پر ڈاک کا انتظار کیا، وہیں ای میل اور پھر سوشل میڈیا پر پلک جھپکتے رابطوں کو بھی پایا۔ اس نسل نے VCR کی پہلی ریکارڈنگ دیکھی اور آج Netflix کی اسٹریمز پر حیران ہوتی ہے۔ ٹیپ ریکارڈر سے Spotify تک، اور پتنگ بازی سے ڈرونز تک کا سفر، سب ان کے ہاتھوں ہوا۔

فیصل آباد کے شبیر  — ایک قصائی جو کوڈنگ سیکھ گیا

شبیر احمد، فیصل آباد میں 1972 میں پیدا ہوئے۔ والد کے ساتھ گوشت کی دکان سنبھالی، لیکن 1999 میں جب ان کے بیٹے نے کمپیوٹر لایا، شبیر صاحب نے تجسس سے پوچھا: "یہ کیا چیز ہے؟" چند سال بعد وہ راتوں کو YouTube پر HTML سیکھتے پائے گئے۔ آج شبیر صاحب اپنے محلے کے بچوں کو کمپیوٹر پروگرامنگ سکھاتے ہیں اور کہتے ہیں:

"ہم نے چاک سے تختی پر لکھنا سیکھا، اور اب کی بورڈ سے دنیا تک رسائی رکھتے ہیں۔"

شبیر صاحب کی کہانی Gen X کی وہ علامت ہے جو سیکھنے سے کبھی نہیں رکی، چاہے عمر کا کوئی بھی پڑاؤ ہو۔

کراچی کی نجمہ آپا — VCR سے وی لاگر تک

نجمہ بی بی، 1968 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے شوہر 1985 میں دبئی گئے تو نجمہ آپا نے VCR پر فلمیں دیکھ کر تنہائی دور کی۔ آج وہ 57 سال کی عمر میں یوٹیوب پر "نجمہ کی رسوئی" کے نام سے چینل چلا رہی ہیں، جہاں ہزاروں لوگ ان کی دیسی ترکیبیں سیکھتے ہیں۔

"جب میں نے پہلی بار موبائل پر ویڈیو بنائی، تو ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اب میرے پوتے بھی میری ویڈیوز ایڈٹ کرتے ہیں!"

یہ وہ Gen X ہے جو گھروں کی خاموش فضا سے نکل کر دنیا سے باتیں کر رہی ہے — آواز بھی، تصویر بھی، شناخت بھی۔

جنریشن ایکس: کیوں ہے یہ نسل قیمتی؟

جنریشن ایکس نے جہاں تبدیلی کو قبول کیا، وہاں اسے جنم بھی دیا۔ ان کے لیے نہ سوشل میڈیا کی دنیا نئی ہے، نہ فون کی اسکرین پر ویڈیو کال۔ لیکن وہ یہ سب اس لیے جانتے ہیں کیونکہ انہوں نے ریڈیو کے "ٹک ٹک" سے شروع کیا تھا۔ یہی وہ نسل ہے:

  • جس نے جنگ اور امن دونوں دیکھے؛
  • جو فیکس مشین سے WhatsApp تک پہنچی؛
  • جو آڈیو کیسٹ سے Bluetooth ایئر بڈز تک آئی؛
  • اور جس کے لیے تبدیلی خوفناک نہیں بلکہ فطری ہے۔

یہ نسل وہ ہے جس کے سینے میں ہزاروں کہانیاں دفن ہیں۔ ان کے تجربے، ان کی یادیں، اور ان کے سیکھنے کا عمل — یہ سب آنے والی نسلوں کے لیے ایک خزانہ ہے۔

کیا ہم اس نسل کی قدر کر رہے ہیں؟

بدقسمتی سے، آج جب ٹیکنالوجی کا زور ہے، ہم Gen X کو یا تو پرانا یا غیر متعلقہ سمجھنے لگے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ نسل ہے جس نے ہمیں تبدیلی کو قبول کرنا سکھایا، جس نے ہمیں فلیکسیبل ہونا سکھایا۔

ان کے بغیر نہ انٹرنیٹ کی دنیا اتنی وسیع ہوتی، نہ کاروبار کی دنیا اتنی مربوط۔

نتیجہ: اپنے اردگرد کے Gen X لوگوں سے سیکھئے

اگر آپ کے والدین، اساتذہ، یا محلے کے بزرگ Gen X سے تعلق رکھتے ہیں، تو ان سے کہانیاں سنیے۔ وہ بتائیں گے کیسے ایک ٹرانزسٹر ریڈیو کی آواز پورے محلے کو جوڑتی تھی۔ وہ دکھائیں گے کہ تبدیلی سے ڈرنا نہیں، بلکہ اسے اپنانا ہے۔

کیونکہ:

"تجربہ، صرف عمر کا حساب نہیں — بلکہ وقت کے سمندر میں تیرنے کا ہنر ہے۔