دریا میں پانی کی آمد کے باوجود سندھ کی نہروں اور شاخوں میں مصنوعی قلت پیدا کی گئی ہے

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

دریا میں پانی کی آمد کے باوجود سندھ کی نہروں اور شاخوں میں مصنوعی قلت پیدا کی گئی ہے





حیدرآباد  عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی رہنما عبدالقادر رانتو، ایڈووکیٹ راحیل بھٹو اور جام تماچی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ دریا میں پانی کی آمد کے باوجود سندھ کی نہروں اور شاخوں میں مصنوعی قلت پیدا کی گئی ہے، جس کے باعث فصلیں سوکھ رہی ہیں۔ آبپاشی محکمے کی کرپشن اور نااہلی کے باعث ہاریوں اور آبادگاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ نہروں اور شاخوں کی بھل صفائی کے فنڈز بھی پیپلز پارٹی ہڑپ کر گئی ہے، جس کی وجہ سے نہروں اور شاخوں میں شگاف پڑ رہے ہیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ کمپنیوں کو پانی پہنچانے کے لیے سندھ کی نہریں آہستہ آہستہ ختم کی جا رہی ہیں، اس لیے بھل صفائی کے فنڈز میں کرپشن کو حکومتی پالیسی بنا دیا گیا ہے۔


دوسری جانب سندھ کی وحدت پر حملے کرنے والی ایم کیو ایم کے دہشتگردوں کے متنازعہ بیانات کی مذمت کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قربت نے ایم کیو ایم جیسے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے خلاف ایک امریکی پراکسی ہے، اور عالمی سامراجی قوتیں ایم کیو ایم کے ذریعے ملک میں خانہ جنگی کروا کر پاکستان کو توڑنا چاہتی ہیں۔ بلاول-شہباز اتحادی حکومت سامراج کی نوکر بن کر سندھ میں ڈاکوؤں اور دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دے رہی ہے۔ عالمی سامراج سندھ کی زمینوں اور وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے شہروں میں دہشتگردی اور دیہی علاقوں میں ڈاکو راج کو فروغ دے رہا ہے۔ امریکی سامراج ایم کیو ایم کے ذریعے سندھ میں نیا اسرائیل قائم کرنا چاہتا ہے۔ ایم کیو ایم اسرائیل کی طرز پر کراچی کو امریکی ہتھیاروں کا اڈہ بنانے کی سازش کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم اور نیتن یاہو کی اسرائیلی حکومت کے مقاصد ایک جیسے ہیں — یعنی خطے میں دہشتگردی پھیلا کر اصل مقامی باشندوں کی نسل کشی کرنا اور امریکی سامراج کے مفادات کا تحفظ کرنا۔


رہنماؤں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے "کراچی اور سندھ" کا لفظ استعمال کر کے پارلیمنٹ کو ایم کیو ایم کے دہشتگردوں کی سازشوں کا مرکز بنا دیا ہے۔ اسپیکر نے سندھ کے وجود پر حملہ کرنے والے الفاظ استعمال کر کے اپنے عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز کھو دیا ہے، اس لیے وہ فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ امریکی پراکسی ایم کیو ایم کے دباؤ میں آنے کے بجائے ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ کی وحدت پر حملہ کرنے اور ملک توڑنے کی سازش کرنے والے ایم کیو ایم کے دہشتگردوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کرے۔