پھر 20 سال پرانا والاافغانستان ہوگیا ، ہم محفوظ نہیں ہماری عزتیں محفوظ نہیں ، افغان خواتین


   پھر 20 سال پرانا والاافغانستان ہوگیا ، ہم محفوظ نہیں ہماری عزتیں محفوظ نہیں ، افغان خواتین




 چہرہ ویب ڈیسک

موسیقی، خواتین کا بازار جانابند ،  شادی کی عمر کی خواتین کےساتھ طالبان  شادیاں  کررہےہیں،طالبان جس علاقے پر قبضہ کررہے وہاں پر اپنا اثر دیکھانا شروع کردیا ہے،طالبان جن علاقوں پر قبضہ کرتے جارہے ہیں ان علاقوں  میں ٹی وی م وی سی آر، آڈیو کیسسیٹس اور ڈشن انٹیناز سمیت دیگر جدید آلات کی اشیاءپر پابندی کے ساتھ انہیں نظر آتش کررہےہیں۔

خواتین کی آزادی ایک بار پھر ختم ہوتی جارہی ہے کسی علاقے میں بھی خواتین آتے جاتے دیکھائی نہیں دیتی ہیں ان پر ہر کسی کی پابندی عائد کی جارہی ہے۔نوے کی دہائی والی صورتحال ایک بار پھر جنم لے چکی ہے،ذرائع کے مطابق طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی عائد کردی ہےتاہم بعض جگہوں پر پرائمری لیول تک تعلیم کی اجازت دی گئی ہے ، طالبان کے قبضے میں جو علاقے آتے جارہے ہیں ان  علاقوں کی خواتین کے ساتھ طالبان  کی شادی کی خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ہرقسم کی جدت پر پابندی عائد کردی گئی ہے خواتین کا کہناہے کہ ہماری زندگی بدلتے ایک دم رک گئی ہے، گھر والے کہتے تھے پہلے جلدی شادی کرلو اب اگر طالبان کا کہنا انہوں نے نہیں  مانا تو وہ  انہیں قتل کردینگے  ایسے حالات میں ہم کہاں جائے، اگر ہمارے پاس پیسے ہوتے تو افغانستان چھوڑ کر کسی اور ملک میں پناہ لیے لیتے  ہمیں اپنے علاقے سے پیار ہے اس دھرتی سے لگائو ہے لیکن اب اس دھرتی پر حیات رہنا مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہوتا جارہاہے,   پھر 20 سال پرانا والاافغانستان ہوگیا ، ہم محفوظ نہیں ہماری عزتیں محفوظ نہیں ۔