*وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی بحیثیت مہمان خصوصی شرکت*
*اسکول ہیلتھ سروسز ایک جامع وژن ہے جس کے تحت سندھ حکومت عملی طور پر مختلف پہلوؤں سے کام کر رہی ہے۔ سید سردار علی شاہ*
کراچی وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ اسکول ہیلتھ سروسز ایک جامع وژن ہے جس کے تحت سندھ حکومت عملی طور پر مختلف پہلوؤں سے کام کر رہی ہے، بچوں میں ہم اسکول سطح پر ہی زیادہ تر بیماریوں کو سمجھنے اور ان سے نمٹبے کی حکمت علمی بنا سکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج کراچی کے مقامی ہوٹل میں بصارت کا عالمی دن اور اسکول سطح ہیلتھ سروسز کی اہمیت کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کے دوران اپنے خطاب میں کیا۔ تقریب کا انعقاد سماجی تنظیم “وژن ٹرسٹ” کی جانب سے کیا گیا تھا، اس موقع پر وژن ٹرسٹ کے سی ای او محمد مظہر ایوان، ماہر تعلیم اور حقوق نسواں کی کارکن و زیبسٹ کی صدر شہناز وزیر علی، سندھ اسٹیٹیوٹ آف آپتھومولوجی اینڈ ویژن سائنس کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال تالپور کے علاوہ ماہرین طب، سماجی تنظیموں کے نمائندوں، طلباء و اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ “وژن ٹرسٹ” معذور افراد کو معیاری، قابلِ رسائی اور جامع خدمات فراہم کرنے کے حوالے سے کام کر رہی ہے اس ٹرسٹ کے زیر اہتمام خیر النساء آئی ہاسپٹل بھی چلایا جا رہا ہے۔ وژن ٹرسٹ اور خیر النساء آئی ہاسپٹل نے کراچی کے اسکولوں کے 40 ہزار سے زائد بچوں کی آنکھوں کے اسکریننگ ٹیسٹ کیے جس میں دور کی نظر کی کمزوری، ایستگمیتزم، بھینگا پن، آنکھوں کا انفیکشن، روشنی سے حساسیت بچوں میں کمزور بصارت، رات کا اندھا پن وٹامن اے کی کمی، حادثاتی نقصان سے نظر کا متاثر ہوجانا، ریٹینا کے مسائل اور دیگر امراض کی نشاندہی میں مدد ملی، اس موقع پر ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وقت پر مسائل کی نشاندہی سے دیکھنے اور نظر کے دیگر مسائل کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر ڈیمیج کو کنٹرول کرنا مشکل بن جاتا ہے۔ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ بچوں کی صحت کے حوالے سے کئی مسائل کو اسکول سطح پر ہی حل کیا جا سکتا ہے، اسکولوں میں طلباء کو بصارت، قوتِ گویائی، نفسیاتی عوارض، غذائیت کی کمی اور اس سے جڑے مختلف مسائل کا سامنا رہتا ہے، جو ان کی سیکھنے اور بڑھنے کی صلاحیت پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسکول ہیلتھ سروسز نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ صوبائی وزیر سید سردار شاہ نے اپنے خطاب میں نشاندہی کرتے ہوۓ کہا کہ اسکول ہیلتھ سروسز ایک جامع وژن ہے جس پر ہماری حکومت نے پہلے سے ہی عملی طور پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ ہم نے بچوں کی پیدائش کی رجسٹریشن کو نادرا کے نظام سے منسلک کیا ہے، جبکہ اسکولوں میں داخلے کے وقت ویکسینیشن کے متعلق معلومات لینا، اور پسماندہ علاقوں کے اسکولوں میں بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنے جیسے پائلٹ پروجیکٹس کے ذریعے قیمتی تجربات اور رہنمائی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوۓ کہا کہ سندھ میں ٹائفائڈ، کرونا، پیٹ کے کیڑوں، سروائکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین اسکولوں میں بھی شروع کی گئیں، یہ اقدامات آئندہ مرحلوں میں اسکول ہیلتھ سروسز کے نظام کو مزید مؤثر اور پائیدار بنانے میں ہماری مدد کریں گے، انہوں نے کہا کہ ان خدمات کے ذریعے طلباء کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت کا باقاعدہ معائنہ کیا جا سکتا ہے، غذائیت سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکتی ہے، اور نفسیاتی مدد کے ذریعے ان کے اعتماد اور کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، اس ضمن میں سماجی اداروں اور شخصات کا کردار انتہائی اہم ہے ہم مل کر کئی مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر نے خیر النساء ہسپتال کی طرف سے اسکول سطح پر آنکھوں کی بیماریوں، ان کے بچاؤ، اور علاج کے طریقوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے حوالے سے کام کی تعریف کی۔ وژن ٹرسٹ کے سی ای او ڈاکٹر محمد مظہر ایوان نے کہا کہ بصارت سے محرومی کسی بھی بچے کے خوابوں کی تعبیر میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے، بروقت آنکھوں کا معائنہ نہ کروانے سے قابلِ علاج مسائل بھی پیچیدہ صورت اختیار کر لیتے ہیں، ڈاکٹر محمد مظہر ایوان نے مزید کہا کہ وژن ٹرسٹ کی طرف سے مختلف اسکولز کے 40 ہزار بچوں کے آنکھوں کی اسکریننگ معائنے سے بچوں میں کئی پیچیدگیوں کی نشاندہی کی گئی، اسکول سطح پر ہیلتھ سروسز سے کئی بیماریوں کے وقت پر ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سندھ اسٹیٹیوٹ آف آپتھومولوجی اینڈ ویژن سائنس کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال تالپور نے
اس موقع پر کہا کہ بصارت کی کمزوری کی وجہ سے بچوں کی سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، نظر کی خرابی کے باعث بچے کلاس میں توجہ مرکوز نہیں کر پاتے، جب بچے واضح طور پر دیکھ نہیں پاتے تو وہ تحریر، تصاویر اور اشارے سمجھنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ SIOVS کے ایگزیکیوٹو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ آنکھوں کے کئی امراض قابل اعلاج ہیں مگر اس ضمن میں آگاہی اور مناسب حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر وژن ٹرسٹ کی طرف سے پرونشل لیول ہیلتھ سروسز کا افتتاح بھی کیا گیا۔