بلوچستان کے معروف بینجو نواز استاد محمد رفیق صرف فنکار نہیں، تہذیب کا ترجمان تھا، اطہر منگی

عرفان علی عرفان علی

بلوچستان کے معروف بینجو نواز استاد محمد رفیق  صرف فنکار نہیں، تہذیب کا ترجمان تھا، اطہر منگی


بلوچستان کے معروف بینجونواز استاد محمد رفیق انتقال کر گئے، موسیقی کی دنیا سوگوار

بلوچستان کے معروف بینجونواز استاد محمد رفیق کے انتقال کی خبر نے موسیقی سے محبت رکھنے والوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ ثقافت، روایتی دھنوں اور بینجو کی مدھم مگر پراثر آواز کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔

بلوچستان کی مٹی کی خوشبو اگر کسی ساز میں سمٹتی ہے، تو وہ استاد محمد رفیق کا بینجو تھا۔ وہ صرف فنکار نہیں، تہذیب کا ترجمان تھا۔ بلوچی اور براہوئی موسیقی کو جس محبت سے اس نے نبھایا، وہ مثال نہیں، روایت ہے۔

اطہر منگی کہتے ہیں: "دنیا میں ایسے لوگ کم ہیں، جو اپنے فن میں اتنی مہارت رکھتے ہوں۔ وہ بلوچستان کا سچا عاشق تھا۔ عاجز، ملنسار، دوستوں کا دوست۔ میری اس سے وابستگی برسوں پر محیط رہی۔ میں نے ہمیشہ اسے احترام، محبت اور سادگی میں گم پایا۔" پی ٹی وی کے سابق ڈائریکٹر پروڈیوسر ، ادیب شاعر اطہرمنگی مزید کہتے ہیں کہ استاد محمد رفیق کی خدمات کو فراموش کرنا ممکن نہیں۔ وہ ساز کی پکار تھا، ثقافت کا رنگ، اور مٹی کی آواز۔ ایسے لوگ صرف فنکار نہیں ہوتے، وہ قوم کی روح ہوتے ہیں۔


استاد محمد رفیق نے پی ٹی وی پر متعدد علاقائی اور ثقافتی موسیقی پروگراموں میں شرکت کی، خاص طور پر بلوچستان کی موسیقی کو اجاگر کرنے والے شوز میں۔

استاد محمد رفیق نے پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر سے وابستہ رہتے ہوئے بلوچی موسیقی اور روایتی ساز بینجو کے ذریعے کئی پروگراموں میں حصہ لیا۔ ان کی شرکت نے بلوچستان کی لوک موسیقی کو قومی سطح پر پہچان دلائی۔

"لوک رنگ" – علاقائی موسیقی پر مبنی پروگرام، جہاں مختلف صوبوں کے فنکار اپنی ثقافت پیش کرتے تھے۔

"بلوچی سنگیت" – پی ٹی وی کوئٹہ سینٹر کا مخصوص پروگرام، جس میں بلوچی دھنیں اور ساز پیش کیے جاتے تھے۔

ثقافتی میلوں اور خصوصی نشریات – عید، یومِ پاکستان، اور دیگر مواقع پر خصوصی پروگراموں میں ان کی شرکت رہی۔

ان کی پرفارمنسز میں بنجو کی دھنوں کے ذریعے بلوچستان کی روایات، خوشی، غم اور جذبے کو خوبصورتی سے پیش کیا جاتا تھا۔ استاد محمد رفیق کی خدمات کو پی ٹی وی نے کئی بار سراہا، اور وہ بلوچستان کے ثقافتی ورثے کے نمائندہ فنکار کے طور پر جانے جاتے تھے۔