بھارتی پنجاب میں چاول کی فصل کی کٹائی، فضائی آلودگی کا خطرہ بڑھ گیا
نئی دہلی/لاہور: بھارتی پنجاب میں 30 لاکھ ایکڑ رقبے پر کاشت ہونے والی چاول کی فصل کٹائی کے مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔ ناسا کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں فصلوں کو نذرِ آتش کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جس سے خطے میں اسموگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
پنجاب میں جدید زرعی مشینری جیسے 5 ہزار سپرسیڈرز، کبوٹا اور بیلرز کے استعمال سے 7 ہزار ایکڑ رقبہ جلنے سے بچایا گیا ہے۔ تاہم اسموگ نگرانی سسٹم کے مطابق ہوا کی رفتار 8 سے 14 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی، جس کی سمت مشرقی و جنوب مشرقی ہوگی۔
ہوائیں امرتسر، جالندھر اور لدھیانہ سے لاہور، قصور اور فیصل آباد کی طرف بڑھنے کا امکان ہے، جس سے ان پاکستانی شہروں میں فضائی آلودگی میں اضافہ متوقع ہے۔
سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور ماسک کے استعمال کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں فضائی معیار کی مسلسل نگرانی جاری ہے، اور متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
مریم اورنگزیب نے دھول پیدا کرنے والی تعمیراتی سرگرمیوں پر فوری پابندی، آلودگی پھیلانے والے صنعتی یونٹس کے آپریشنز بند کرنے اور میونسپل اداروں کو کوڑا جلانے، تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔